صارف:احمد فرحان/ریتخانہ

راس مسعود ایک بڑاانسان ،ایک دلآویز شخصیت سر راس مسعود نواب مسعود جنگ بہادر مملک آصفیہ کے وزیرِ تعلیمات سر سیّد کے پوتے ،جسٹس محمود کے بیٹے بہت بڑے آدمی تھے ۔بڑی اونچی سوسائیٹیوں کے رُکن تھے ،مجھے ان کے بارے میں صرف اتنا معلوم تھا ،اس سے زیادہ معلومات کی ضرورےت نہ تھی ،نہ پروا ،البتہ تعلقِ خاطر اس لئے بڑھ گیا تھا ،کہ محمد علی شوکت علی نےاپنے دوستانہ تعلقات کا دباؤ ڈال کر انہیں مجبور کیا کہ وہ اس سلطنت ِآصفیہ کی پیش کش معتمدی سیا سیات مسترد کر دیں۔ اور اپنے دادا کے بناۓ ہوۓ ادارۂ علمی کے احیائی کی کو شش کریں انہوں نے بڑی اولوالعزمی سے علی برادران کا یہ اصرار قبول کر لیا اور حیدر آباد سے علیگڑھ چلے آئے ۔

؁1933    میں داکٹر انصاری مرحوم کی دعوت پر غازی رؤف پاشا جامعہ ملیہ میں توسیعی لیکچر دینے تشریف لائے ،دسمبر کا مہینہ تھا ۔جاڑ کا موسم اپنے رعنائی اور زیبائی کا پیکر  بنا ہوا نور سیال کی بارش کر رہا تھا ، تعلیمی مرکز  نمبرا کا حال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، دروازہ تک بلکہ سڑ ک تک ،حسرت ِدیدار رکھنے والوں کی فوج در فوج کھڑی تھی ، جو چند طلباء ہجوم  کو قابو میں رکھنے کی خدمت پر ما مور تھے ،ان میں مَیں بھی تھا اتنےمیں مَیں نے دیکھا ایک شاندار موٹرآ کر رُکی  ۔اس میں سے دو ہرے بدن کا لمبا تڑنگا ،با رعب وجیہیہ سیاہ  رنگ کی بہترین شیروانی  ،اور سفید چوڑی دار پاجامہ  زیب بر کئے  ۔ایک شخص بڑے وقار اور دبدہ کے ساتھ برآمد ہوا ،اُترتے ہی اُس نے آواز دی ،ذاکر ! شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین فوراً سامنے آگئے  اور شفقت سے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گئے -------- یہ تھے سر راس مسعود!

اتنے میں مولوی عبد الحق صاحب سیکر ٹری انجمن ترقئ اردو (ہند) تشریف لائے اُنہیں دیکھتے ہی بڑے بے تابی سے اُٹھے ،آگے بڑھے کسی قدر جھک کر ،کیونکہ وہ خود راز قد تھے ،اور مولوی صاحب خَیْرُ اْلاُمُوْرِ اَوْسَطِھَا کے مصداق ،انہیں سینہ سے لگایا ،اور چٹاخ چٹاخ ان کے گالوں پر بوسوں کی بارش کرنے لگے ۔ کتنا دلچسپ منظر تھا ،ایک لمبا تڑنگا شخص ،ایک کہن سال اور با وقار شخص کے رخساروں پر مہرِ محبت ثبت کر رہا تھا ۔