صبحِ صادق

صبح صادق

صبح صادق وہ وقت کہلاتا ہے ایک روشنی ہے کہ مشرق کی جانب جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے عین اس کے اوپر آسمان کے کنارے میں جنوباً شمالاً دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے۔[1] صبح صادق سے مراد وہ سفیدی ہے جو صبح کاذب کے معاً بعد مشرقی افق میں دائیں بائیں پھیلتی ہوئی اوپر کو اٹھتی ہے۔ اسے فجرِ ثانی بھی کہتے ہیں اور اسی صبح صادق کے نکلنے سے نماز فجر کا وقت شروع ہوتا ہے اور آفتاب نکلنے سے پہلے تک رہتا ہے۔ جب آفتاب کا ذرا سا کنارا بھی ظاہر ہو جائے تو فجر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔

حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک جب اچھی طرح روشنی ہو جائے تو نماز فجر پڑھنی چاہیے یعنی مردوں کو اجالا ہو جانے پر فجر کی نماز پڑھنا مستحب ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. بہارشریعت، حصہ 3، ص 15


اذان صبح سے مغرب تک ان نو چیزوں سے جو بعد میں بیان کی جائے گی پرہیز کرے اور مغرب کی تشخیص (روزے کو کھولنے کے لیے) اس وضاحت کے ساتھ جو مغرب کی نماز میں کی گئی یہاں بھی جاری ہے۔