صرف و نحو وہ علم ہے جس میں لفظوں کا جوڑ توڑ اور ان کے بولنے اور استعمال کا قاعدہ بیان کیا جائے۔[1]

علم صرف کی تعریفترميم

ایسے اصول و ضوابط جن کے ذریعہ ایک کلمہ سے دوسرا کلمہ بنانے اور اس میں تبدیلی کرنے کاطریقہ معلوم ہو۔

موضوعترميم

علم صرف کا موضوع صیغہ(صیغہ کلمہ کی اس شکل کو کہتے جو حروف اور حرکات و سکنات کی مخصوص ترتیب سے حاصل ہوتی ہے)کے اعتبارسےکلمہ ہے ۔

غرض و غایتترميم

صیغوں کوبنانے اوران میں تبدیلی کرنے میں ذہن کو غلطی سے بچانا۔

وجہ تسمیہترميم

علم صرف کوصرفکہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا لغوی معنیپھیرناہے اور اس علم میں چونکہ ایک کلمہ کو پھیر کر اس کی مختلف صورتیں بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں اس لیے اس علم کو علم صرفکہتے ہیں ۔[2]

علم نحو کی تعریفترميم

نحو کا لغوی معنی راستہ ،کنارہ یا ارادہ کرناہے۔ جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد وہ علم ہے جس میں ایسے قواعد بیان کیے جائیں کہ جن کے ذریعے اسم ،فعل اور حرف کے آخر میں تبدیلی واقع ہونے یانہ ہو نے اور اس میں تبدیلی کی نوعیت کا علم حاصل ہو،نیز کلمات کو آپس میں ملانے کا طریقہ بھی معلوم ہو۔

غرضترميم

عربی لکھنے اور بولنے میں ترکیبی غلطیوں سے بچنا۔

علم نحو کا موضوعترميم

اس علم کا موضوع کلمہ اور کلام ہے ؛کہ اس علم میں ان ہی کے احوال سے بحث ہوتی ہے۔

نحو کو نحوکہنے کی وجوہاتترميم

  • 1۔ نحو کا ایک معنیطریقہہے۔ چونکہ متکلم اس علم کے ذریعے عرب کے طریقے پرچلتاہے اس لیے اس علم کونحوکہتے ہیں۔
  • 2۔ نحو کا ایک معنی کنارہبھی ہے۔ چونکہ اس علم میں کلمے کے کنارے پر موجود (آخری حرف )سے بحث کی جاتی ہے اس لیے اسےنحوسے تعبیرکیاگیا۔
  • 3۔ اس کاایک معنی ارادہ کرنابھی ہے۔ جس نے سب سے پہلے اس علم کے قواعد کو جمع کرنے کا ارادہ کیا اس نے نَحَوْت ُکا لفظ استعمال کیا۔ جس کا معنی ہےمیں نے ارادہ کیااس لیے اسےنحو کہاگیا ۔
  • 4۔ اس کا ایک معنیمثل بھی ہے۔ چونکہ اس علم کا جاننے والا عربوں کی مثل کلام کرنے پر قادر ہو جاتا ہے اس لیے اسے نحوکا نام دیاگیا۔

علم نحو کا واضعترميم

اس علم کے واضع علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ آ پ رضی اللہ تعالی عنہ ہی کے حکم سے ابوالاسود نے باقاعدہ اس علم کی تدوین کی ۔[3]

  1. فیروز اللغات اردو جامع
  2. صرف بَہَائی،بہاؤالدین العاملي،صفحہ 1 ،مکتبۃ المد ینہ کراچی
  3. نصاب النحوصفحہ 1 مکتبۃ المدینہ کراچی