طبلہ

ایشیائی موسیقی کا آلہ

طبلہ جنوبی ایشیا کاایک معروف آلۂ موسیقی ہے جو کلاسیکی اور مذہبی موسیقی، جو جنوب ایشیائی ممالک اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا خاصہ ہے، میں استعمال کیا جاتا ہے۔ موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔

طبلہ

تاریخ

ترمیم

طبلہ کی ایجاد قدیم بھارت میں ہوئی اس بات کے ثبوت پائے جاتے ہیں۔[1] بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں بھاجا غاروں میں کندہ نقوش ہیں جن میں ایک عورت طبلہ بجا رہی ہے اور دوسری ناچ رہی ہے۔ یہ کندہ نقوش 200 قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کی جڑ بھارت میں وید یا اپنشد کے زمانے تک جاتی ہے۔

بجانے کا طریقہ

ترمیم

اس آلۂ موسیقی کو استعمال کرنے میں انگلیوں کی پوروں اور ہتھیلیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ صحیح طور بجانے کے لیے مختلف طریقے رائج ہیں۔ انگلیوں اور ہتھیلی کے مختلف زاویوں اور طریقہ کار سے بجانے پر مختلف آوازیں پیدا کی جا سکتی ہیں جو علم موسیقی کے عین مطابق ہیں۔ ہاتھ کے بالکل زیریں حصے کو بڑے ڈھول پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے پیدا ہونے والی آواز کی سرعت اور باریکی کو ماپ کر سر کے عین مطابق ڈھالا جاتا ہے۔

 
200 BC carvings from at بھاجی غاریں، مہاراشٹر، ایک عورت طبلہ بجا رہی ہے اور دوسری ناچ رہی ہے

حوالہ جات

ترمیم
  1. "آرکائیو کاپی"۔ 02 اکتوبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2014