عبد العزی بن خطل اس کا نام عبد اللہ بن خطل بھی ملتا ہے مرتد ہو کر مقتول ہوا۔

کاتب وحی

ترمیم

متعدد موٴرخین نے اس کے کاتبِ نبی ﷺ ہونے کی بات لکھی ہے، مثلاً: ابن سید الناس انصاری اور عراقی نے لکھا ہے کہ: یہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت کرتا تھا، پھر مرتد ہو گیا اور حضور کے حکم سے قتل ہوا، اس وقت خانہٴ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا تھا [1]

لیکن ڈاکٹر محمد مصطفٰی اعظمی لکھتے ہیں کہ: ”اس کے کاتبِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر کوئی معتبر سند موجود نہیں ہے بعض کتابوں میں یہ بھی ہے کہ وہ وحی کی کتابت میں اپنی طرف سے الٹ پھیر کر دیتاتھا؛لیکن یہ بات بھی بہت مضبوط نہیں ہے۔

ارتداد و سزائے موت

ترمیم

اس کے قتل کیے جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عبد البر نے لکھا ہے کہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس کے ساتھ ایک اور مسلمان کو کر دیا، اس نے اس مسلمان کو قتل کر دیا اور قتل کی سزا کے ڈر سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا اور مشرکین سے جا ملا۔ (الدرر في المغازی والسیر ص 233) سیرت ابن ہشام میں یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان غلام تھا، جو اس کی خدمت کرتا تھا، اس نے غلام کو حکم دیا کہ پہاڑی بکرا ذبح کرکے اس کے لیے کھانا تیار کرے اور خود سو گیا، جب اٹھا تو دیکھا کہ کھانا تیار نہیں ہے، بس کیا تھا کہ غلام کو جان سے ہی مار ڈالا اور ڈر کے مارے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا اور شقاوت اتنی بڑھ گئی کہ اپنی دو لونڈیوں سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی اور ہجو کے اشعار کہلواتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کے خون کو مباح قرار دیا، فتحِ مکہ کے دن وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت وہ خانہٴ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی لونڈیوں کے قتل کا بھی حکم نافذ ہوا تھا۔ [2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. عیون الاثر 2/316 المصباح المضئی 37/أ، العجالة السنیہ 247
  2. سیرہ ابن ہشام 3/410، المغازی للواقدی 859، 860

سانچے

ترمیم