عفیفہ بنت احمد اصفہانیہ

عفیفہ بنت ابو بکر احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن حسن بن مہران فارفانیہ (ایک قول کے مطابق) فارقانیہ اصفہانیہ، کنیت ام ہانی ہے۔ عالمہ، فقیہ، محدثہ اور حدیث کی راویہ ہیں۔ پانچوی اور چھٹی صدی ہجری کی ایران میں واقع اصفہان کے ایک گاؤں فارفان یا فارقان سے نسبت ہے، اسی وجہ سے فارفانیہ یا فارقانیہ نسبت ہے۔[1]

عفیفہ بنت احمد اصفہانیہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عفیفہ بنت ابی بکر احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن حسن بن مہران
تاریخ پیدائش سنہ 1116  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات ستمبر 1209 (92–93 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت اُم ہانیء
عملی زندگی
طبقہ بتیسواں
نسب اصفہانیہ فارفانیہ
وجۂ شہرت: مسندة الاصبہان

ولادت و تعلیمترميم

عفیفہ اصفہانیہ کی پیدائش اصفہان کے گاؤں "فارفان" میں ماہ ذو الحجہ سنہ 510ہجری میں ہوئی، وہیں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ ان کے والد واعظ تھے اور بھائی محمد حدیث کے راوی تھے۔ بچپن ہی میں شرعی علوم کی طرف مائل ہو گئیں، یہاں تک کہ عبد الواحد بن محمد دشتج سے حدیث کی سماعت 7 سال کی عمر میں کی،[1] ان سے جو حدیث روایت کی ہے وہ یہ ہے:

ہم نے ابن سلامہ اور فخر علی نے بیان کیا، انھوں نے عفیفہ سے نقل کیا کہ: ہمیں عبد الواحد بن محمد دشتج نے بتایا، کہ ہمیں ابو نعیم اصفہانی نے بتایا، کہ ہمیں محمد بن احمد نے بتایا، کہ ہم سے محمد بن عثمان عبسی نے بیان کیا، کہ ہم سے محمد بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن ابی لیلیٰ نے اسماعیل بن امیہ سے، انھوں نے ثابت سے، انھوں نے انس مالک سے بیان کیا کہ: میں نے رسول اللہ   سے سنا: کہ آپ حج اور عمرہ دونوں میں «لبیک» کہتے تھے۔[1]

عفیفہ اصفہانیہ کا حافظہ انتہائی مظبوط اور قوی تھا، احادیث کی لمبی لمبی اسناد انھیں حفظ تھی، اسی لیے ان سے مروی روایات لمبی اسناد پر مشتمل صحابہ اور رسول اللہ تک مرفوع ہوا کرتی ہیں، حالانکہ ان کا زمانہ بہت بعد کا ہے اور اکثر روایات صحیح ہیں۔

اساتذہترميم

  • عبد الواحد بن محمد دشتج
  • حمزہ بن عباس علوی
  • اسحاق بن احمد اشنانی
  • فاطمہ بنت عبد اللہ جوزدانیہ جو مسندۃ اصبہان (اصفہان کی سند) کے لقب سے مشہور تھیں، ان سے "المعجم الکبیر" مکمل، "المعجم الصغیر" اور "کتاب الفتن لنعیم بن حماد" حفظ کیا تھا۔[1][2]
  • جعفر بن عبد الواحد ثقفی

اس کے علاوہ اور بعض اساتذہ حدیث اور شیوخ سے حدیث کی اجازت حاصل تھی۔ مثلاً:

  • ابو علی حداد
  • ابو علی بن مہدی
  • ابو الغنائم بن مہتدی باللہ
  • ابو سعد بن طیوری
  • ابو طالب یوسفی [1][2]

تلامذہترميم

بہت سے کبار محدثین اور راویوں نے ان سے روایت اور حدیث بیان کی ہے۔

  • ابو موسیٰ بن عبد الغنی
  • شیخ الضیاء
  • رفیع اسحاق ابرہوقی
  • ابو بکر بن نقطہ
  • احمد بن سلامہ
  • برہان بن درجی
  • ابن شیبان
  • فخر علی
  • خدیجہ بنت شہاب بن راجح [1][2]

علما کی آراترميم

عفیفہ اصفہانیہ کے بارے میں بہت سے علما اور مؤرخین نے لکھا ہے، امام ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں بتیسویں طبقہ میں ان پر لکھا ہے اور انھیں "مسندۃ الاصبہان" یعنی اصفہان کی سند کا لقب دیا ہے۔ اور ان کے بارے میں کہا ہے: «عظیم شیخہ تھیں۔» ایک دوسری جگہ لکھا ہے: «علو اسناد ان پر ختم ہو جاتی ہیں۔»[1]

ان کے شاگرد ابو بکر بن نقطہ کہتے ہیں: «میں نے ان سے المعجم الکبیر اور کتاب الفتن لنعیم وغیرہ کی سماعت کی ہے»۔[1][2]

خیر الدین زرکلی نے ان کے بارے میں کہا ہے: «فاضلہ تھیں، حدیث اور فقہ میں انھیں خوب شہرت حاصل تھی»

عبد العظیم منذری نے کہا ہے: «اصفہان اور بغداد انھیں اعلیٰ اجازات احادیث حاصل تھی، کہا جاتا ہے کہ ان کے پانچ سو سے زائد شیوخ حدیث تھے»۔

ان سے مروی روایاتترميم

بہت سی احادیث ان کی سند سے مروی ہیں، ہم چند احادیث مع سند کے پیش کرتے ہیں:

  1. کتاب "فوائد ابی علی الصواف" میں ایک روایت:
ہمیں ام ہانی عفیفہ بنت احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن حسین فارفانیہ نے قراءتاً بیان کیا، میں منگل کے روز 17 جمادی الاولی سنہ 599ھ کو سن رہا تھا، کہا گیا: تمھیں ابو طاہر عبد الواحد بن محمد بن احمد بن ہیثم صباغ دشتج نے منگل کے روز 15 ربیع الثانی سنہ 517ھ کو اور ابو علی حسن بن احمد حداد نے بتایا، دونوں نے فرمایا: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ بن احمد نے بتایا، انھیں ابو علی محمد بن احمد بن حسن صواف نے بتایا، انھیں ابو یعقوب اسحاق بن حسن بن میمون حربی نے بتایا، انھیں حسین بن محمد بن بہرام ابو احمد مروذی نے بتایا، انھیں شیبان بن عبد الرحمن تمیمی نے حضرت قتادہ سے بیان فرمایا: فرمایا انس بن مالک نے بھی بیان کیا: رسول اللہ   نے فرمایا: «بندہ کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور لوگ جدا ہو جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے» فرمایا  : دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں، پھر کہتے ہیں: اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مومن بندہ جواب دیتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں» فرمایا: کہا جاتا ہے: اپنا یہ جہنم کا ٹھکانا دیکھو، اللہ اسے اب جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے، فرمایا: وہ دونوں کو دیکھتا ہے۔ صحابی فرماتے ہیں: ہم سے حضور   نے بیان کیا «اس کی قبر کو ستر گز وسیع کر دیا جاتا ہے، اور سر سبزی و شادابی سے بھر جاتا ہے، اس تک دن جس دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا (قیامت کے دن)۔»[3]
  1. ایک حدیث محمد بن محمد بن محمد ابن فہد قرشی نے اپنی کتاب "لحظ الالحاظ بذیل طبقات الحفاظ" میں روایت کیا ہے:
ہم سے خاتون بنت ابو بکر بن ایوب نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ: ہم سے ام ہانی عفیفہ بنت احمد بن عبد اللہ فارقانیہ اور ام حبیبہ عائشہ نے اسعد بن سعید بن روح فاخر اور احمد بن محمد بن ابو نصر سے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: ہمیں ام الفضل فاطمہ بنت عبد اللہ بن احمد جوزدانیہ نے بیان کیا کہ، ہمیں ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن ریذہ نے بیان کیا کہ، ہمیں ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب حافظ نے بیان کیا کہ، ہمیں ابو مسلم انصاری نے حمید سے انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ   نے فرمایا: «اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم» میں کہا: ائے اللہ کے رسول میں مظلوم کی مدد کر سکتا ہوں، لیکن ظالم کی مدد کیسے کروں؟ فرمایا:«تم سے ظلم کرنے سے روکو، یہی تمھاری مدد ہے»[4]
  1. ایک اور حدیث ابن سید الناس نے اپنی کتاب "عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر" میں نقل کیا ہے:
میں نے خاتون بنت ابو بکر بن ایوب سے اجازتاً پڑھا ہے، انھوں کہا کہ میں تمھیں ام ہانی عفیفہ بنت احمد بن عبد اللہ فارقانیہ سے خبر دے رہی ہوں اجازتاً، انھیں ابو طاہر عبد الواحد بن صباغ دشتج نے خبر دیا، انھیں ابو نعیم حافظ نے، انھیں ابن الصواف نے، انھیں بشر بن موسیٰ نے، انھیں محمد بن سعید یعنی ابن الاصبہانی نے، انھیں شریک نے، انھیں ابو وکیع نے، زید سے، انھوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا: «سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید کی نماز دو رکعت ہے، پوری کی پوری اس میں قصر نہیں ہے، رسول اللہ   کی زبانی»

وفاتترميم

عفیفہ اصفہانیہ کی وفات ربیع الثانی، ایک قول کے مطابق جمادی الاولی میں سنہ 606 ہجری میں اصفہان، ایران میں ہوئی، تقریباً 96 سال عمر پائی۔[1][2]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح ترجمة عفيفة في سير أعلام النبلاء للذهبي، إسلام ويب، اطلع عليہ في 22 جمادی الاولی 1436 هـ۔ آرکائیو شدہ 15 جون 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  2. ^ ا ب پ ت ٹ عفيفة بنت أحمد بن عبد اللہ الواعظ الفارقاني أم هانئ الأصبهانية - التقييد لمعرفة رواة السنن والمسانيد، المكتبة الشاملة، اطلع عليہ في 22 جمادی الاولی 1436 هـ۔ آرکائیو شدہ 2 اپریل 2015 بذریعہ وے بیک مشین
  3. الحديث في كتاب فوائد أبي علي الصواف، إسلام ويب، اطلع عليہ في 22 جمادی الاولی 1436 هـ۔ آرکائیو شدہ 5 مارچ 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  4. لحظ الألحاظ بذيل طبقات الحفاظ - (جزء 1/صفحة 72)، المكتبة الشاملة، اطلع عليہ في 22 جمادی الاولی 1436 هـ۔ آرکائیو شدہ 4 مارچ 2016 بذریعہ وے بیک مشین