علوم نقلیہ وعقلیہ

علوم نقلیہ وعقلیہ علم کی تقسیم کے لیے دو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، علم معقول و علم منقول. علم معقول سے علوم عقلیہ ہیں جیسے فلسفہ اور ریاضی وغیرہ، اسے سائنسی علوم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور علم منقول سے مراد علوم نقلیہ ہیں جیسے حدیث، تاریخ اور فقہ وغیرہ جس میں ماضی میں لکھی ہوئی باتیں بھی شامل ہیں۔
منقول جیسے قرآن و حدیث کیونکہ کسی شے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کو نقل کہا جاتا ہے جس میں تدوین اور اسناد کا ذکر ہوتا ہے،[1]
معقول جیسے منطق و فلسفہ کیونکہ انکا ادراک عقل سے ہوتا ہے، اسے ادلہ عقلیہ میں بھی شمار کیا جاتا ہے

علوم نقلیہترميم

وہ علم جو عقل کی بجائے نقل یا بیان کی ہوئی باتوں سے بحث کرتا ہے، وہ علم جو ایک راوی سے دوسرے راوی تک منتقل ہوا ہو یا جو روایتاً ایک دوسرے تک پہنچا ہو، مثلاً حدیث، تاریخ وغیرہ، علم منقول (عقلیہ کی ضد)۔[2]

علوم عقلیہترميم

وہ علوم جن میں موجودات کے تصور سے بحث کی جاتی ہے۔

علوم عقلیہ کو” حکمت وفلسفہ “ ” علوم فطری “ ” اصول موضوعہ “ اور ” نظریات“ بھی کہتے ہیں ان میں مندرجہ ذیل علوم شامل ہیں علم المنطق،علم الجدل،اصول فقہ،اصول دین،علم الہٰی،علم طبعی،علم طب،علم میقات اورعلم فلسفہ شامل ہیں[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. العقل والنقل عند ابن رشد مؤلف: ابو احمد محمد امان بن علی جامی علی ناشر: الجامعہ الاسلامیہ بالمدینہ المنورة
  2. نقلیہ - اردو_لغت[مردہ ربط]
  3. استشهاد فارغ (معاونت)