عمروبن دینار کبائر تابعین میں سے ہیں۔ عمرو نام، ابو محمد کنیت، باذان عجمی کے غلام تھے۔ 46ھ میں پیدا ہوئے۔ [1]

عمرو بن دینار
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عمرو بن دينار
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت أبو محمد
عملی زندگی
پیشہ محدث،  مفسرِ قانون  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فضل وکمال ترمیم

علمی اعتبار سے مکہ کے اکابر علما میں تھے، حافظ ذہبی انھیں حافظ، امام اورعالم حرم لکھتے ہیں [2]امام نووی کا بیان ہے کہ ان کی جلالت، امامت اورتوثیق پر سب کا اتفاق ہے، وہ ائمہ تابعین میں تھے۔ [3]

حدیث ترمیم

حدیث کے بڑے حافظ تھے، علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کان عمرو ثقۃ ثبتا کثیر الحدیث صحابہ میں انھوں نے ابن عمرؓ، ابن عباسؓ، ابن زبیرؓ، ابن عمروبن العاصؓ، ابو ہریرہؓ، جابر بن عبد اللہ، طاؤس، عطاء محمد بن علی، مجاہد، ابن ابی ملیکہ، سلیمان بن یساء وہب بن عتبہ اورامام زہری وغیرہ ایک کثیر جماعت سے استفادہ کیا تھا۔ [4]

وسعتِ علم ترمیم

حدیث میں ان کا علم نہایت وسیع تھا، اس عہد کے تمام علما کا علم ان کے سینہ میں محفوظ تھا، طاؤس اپنے لڑکے کو ہدایت کرتے تھے کہ جب مکہ جانا تو ابن دینار کے پاس ضرور جانا، ان کے کان علما کا خریطہ تھے۔ [5]

رویات کا پایہ ترمیم

ان کی روایات کا پایہ، ارباب فن کے نزدیک نہایت بلند تھا، امام زہری کہتے تھے کہ میں نے اعلیٰ درجہ کی حدیثوں میں اس شیخ سے زیادہ انص نہیں دیکھا، سفیان نے ایک مرتبہ سعد سے سوال کیا کہ تم نے حدیثوں میں سب سے زیادہ متقن کس کو دیکھا انھوں نے کہا عمرو بن دینار اورقاسم بن عبد الرحمن کو، ابن عتبہ اورعمروبن جریر انھیں ثقۃ ثبت صدوق اورکثیر الحدیث کہتے تھے۔ [6]

روایت بالمعنی ترمیم

روایت میں احتیاط کے باوجود احادیث کے الفاظ کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے تھے اور بالمعنی حدیثیں روایت کرتے تھے۔ [7]

محدثین کا مرجوعہ ترمیم

حدیث میں ان کے وسعتِ علم کی بنا پر ان کی ذات شائقین حدیث کا مرجع بن گئی تھی، لوگ دوسروں سے پوچھ پوچھ کر ان کی مرویات لکھتے تھے، سفیان کا بیان ہے کہ ایوب مجھ سے پوچھا کرتے تھے کہ عمرو بن دینار نے فلاں شخص سے کون سی حدیث بیان کی ہیں میں ان کو بتا کر پوچھتا کیا آپ لکھنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہاں۔ [8]

تلامذہ ترمیم

ان کے فیض عام نے ان کے تلامذہ کا دائرہ خاصہ کر دیا تھا، اکابر علما میں جعفر صادق ابو قتادہ، مسعر، ابن ابی نجیح، حماد اورسفیان وغیرہ کے نام لائق ذکر ہی ان کے علاوہ، عام تلامذہ کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔

فقہ ترمیم

فقہ میں بھی ان کو بڑی دستگاہ حاصل تھی، تفریع واستنباط مسائل میں انھیں درجہ امامت واجتہاد حاصل تھا، امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ اصحاب مذاہب کے مجتہدوں میں تھے [9] مرکز علم مکہ کے ممتاز مفتی تھے [10] بعض علما انھیں طاؤس، عطاء اورمجاہد جیسے اکابر علما پر بھی ترجیح دیتے تھے ؛چنانچہ ابن ابی دینار ان کو تینوں سے بڑا فقیہ مانتے تھے [11] ابن عینیہ کہتے تھے کہ ہم لوگوں کے نزدیک عمروبن دینار سے بڑا فقیہ ان سے بڑا عالم اورحافظِ حدیث کوئی نہ تھا۔ [12]

احتیاط ترمیم

احتیاط کی بنا پر حدیث اور فقہی مسائل کی کتابت پسند نہ کرتے تھے فرماتے تھے کہ لوگ ہم سے سوالات کرتے ہیں، جب ہم انھیں بتاتے ہیں، تو وہ اس کو لکھ کر پتھر پر نقش بنالیتے ہیں، ممکن ہے کل کو ہم ان سے رجوع کر لیں (اس وقت وہ غلط نقوش باقی رہ جائیں گے) ایک مرتبہ کسی نے آپ سے کہا کہ سفیان آپ سے جو کچھ سنتے ہیں، اس کو لکھ لیتے ہیں، یہ سن کر آپ رونے لگے اورکہا جو شخص مجھ سے لکھتا ہے وہ مجھے پر بڑی زیادتی کرتا ہے۔ [13] ایک مرتبہ کسی نے آپ سے کسی چیز کے متعلق کچھ پوچھا، آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، سائل نے کہا اس کے بارہ میں میرے دل میں بعض شکوک ہیں، اس لیے جواب مرحمت ہو آپ نے کہا خدا کی قسم تمھارے دل میں ابو قیس (پہاڑ) کے برابر شک ہونا مجھے اس کے مقابلہ میں زیادہ پسند ہے کہ میرے دل میں بال برابر بھی شک ہو۔ [14] (یعنی اس کے جواب میں)

عبادت وریاضت ترمیم

بڑے عبادت گزار تھے، رات کا بیشتر حصہ عبادت میں گزرتا تھا، ایک تہائی شب سوتے تھے، ایک تہائی میں حدیثیں پڑھتے تھے اورایک تہائی نماز میں بسر ہوتی تھی۔ [15]

جماعت کا اہتمام ترمیم

جماعت کی پابندی میں اتنا اہتمام تھا کہ عالم پیری میں بھی جب چلنے پھرنے کی طاقت باقی نہ رہ گئی تھی، مسجد ہی میں جوان کے گھر سے کافی فاصلہ پر تھی، نماز پڑھتے تھے، سفیان کا بیان ہے کہ عمرو نے کسی زمانہ میں مسجد کا آنا نہیں چھوٹا۔ پیری کے زمانہ میں بھی جب وہ اٹھا کر سواری پر بٹھائے جاتے تھے، میں نے ان کو ہمیشہ مسجد جانے کے انتظار ہی میں بیٹھا ہوا پایا میں صغیر سنی میں انھیں اٹھا کر سواری پر بٹھا نے کے قابل نہ تھا لیکن پھر چند دنوں کے بعد ہوگیاتھا، ان کا گھر مسجد سے دور تھا۔

مذہبی خدمات کا معاوضہ نہ لیتے تھے ترمیم

مذہبی خدمات پر معاوضہ لینا اچھا نہ سمجھتے تھے اور انھیں حبۃ للہ انجام دیتے تھے، ابن ہشام نے آپ سے خواہش کی کہ میں آپ کا وظیفہ مقرر کیے دیتا ہوں، آپ اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر افتا کی خدمت انجام دیجئے آپ نے منظور نہ کیا اوریوں ہی بلا معاوضہ جس طرح سے انجام دیتے چلے آ رہے تھے انجام دیتے رہے۔ [16]

وفات ترمیم

116 میں وفات پائی۔ [17]

حوالہ جات ترمیم

  1. (تذکرۃ الحفاظ:1/100)
  2. (ایضاً)
  3. (تہذیب الاسماء:1، ق2، ص27)
  4. (ابن سعد:5/25)
  5. (تہذیب التہذیب:8/29)
  6. (ابن سعد:5/353)
  7. (تہذیب التہذیب:8/30)
  8. (ابن سعد:5/353)
  9. (تہذیب :8/30)
  10. (تہذیب الاسماء:1/27)
  11. (ایضاً، ق1، ص27)
  12. (تذکرۃ الحفاظ:1/100)
  13. (ابن سعد:5/354)
  14. (ابن سعد:5/354)
  15. (تذکرۃ الحفاظ:1/100)
  16. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)
  17. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)