عوج بن عنق دنیا کا لمبا ترین انسان تها۔ افسانوی قصہ یہ کافر ہی تھا لیکن طوفان نوح میں بچ گیابعد میں طوفان نوح میں عوج بن عنق کے علاوہ کوئی بھی غرق ہونے سے نجات پانے والا نہ ہوا۔ پانی اس کی کمر تک تھا اس کی نجات کا سبب یہ بنا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کے لیے ساگوان کی لکڑی کی ضرورت تھی مگر اس کو اٹھا کر لاناممکن نہ تھا عوج وہ لکڑی شام سے اٹھا کر لایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کیا اور اسے غرق ہونے سے نجات دی۔[1]

مأخذترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر قرطبی،ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی،سورۃ القمر آیت 14