غزوہ بحران (عربی:غزوة بحران) جمادی الاول تین ہجری کو مسلمانوں اور بنو سلیم کے درمیان پیش آیا۔ مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن بھاگ چکا تھا۔

غزوہ بحران
Buraan.JPG
عمومی معلومات
متحارب گروہ
مسلمان بنو سلیم
قائد
محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نامعلوم
قوت
300 بنو سلیم، تعداد نا معلوم
نقصانات

وجہ تسمیہترميم

مسلمان جس جگہ دفاع کے لیے پہنچے اس مقام کا نام بحران تھا، اسی نسبت سے اس غزوہ کا نام بھی غزوہ بحران مشہور ہو گيا۔[1]

واقعاتترميم

مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ بنو سلیم جمعیت اکٹھی کر رہے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 300 افراد لے کر دفاع کے لے نکلے اور بحران نامی مقام پر پہنچے، بحران فرع کے پاس ایک جگہ ہے، چودہ دن مدینہ سے باہر رہے مگر دشمن منتشر ہو چکا تھا مقابلہ نہ ہوا۔[2]

نتائجترميم

دشمن بھاگ گیا، کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہوا، مسلمان چودہ دن تک مدینہ سے باہر رہے۔ اس دوران مدینہ میں ابن ام مکتوم نائب مقرر تھے، جو ایک نابینا صحابی تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ابن سعد، طبقات ابن سعد، جلد 2، صفحہ 35-36
  2. ڈاکٹر شوقی ابو خلیل، اٹلس سیرت نبوی، صفحہ 240