غلجی (پشتو: غلجي‎; انگریزی: Ghilji) جسے خلجی (خلجي; انگریزی: Khaljī) اور غرزئی (پشتو: غرزی‎; انگریزی: Gharzai) بھی کہا جاتا ہے، سب سے بڑا پشتون قبائلی اتحاد ہے۔[1]


جب جہانگیر کے عہد میں ایرانی درباریوں نے افغانوں /پٹھانوں کے نسب بارے میں بیہودہ و دقیانوسی روایات بیان کیں تو جہانگیر بادشاہ کے دربار میں موجود ایک افغان امیر خان جہاں خان لودی جو جہانگیر بادشاہ کا انتہائی مقرب امیر تھا. اس نے اس بدزبانی کا سدباب کرنے کیلئے مختلف پشتون امراء سے مشاورت کرکے نعمت اللہ ہراتی کو یہ ذمہ داری تفویض کی کہ وہ پشتونوں یعنی پٹھانوں کے نسب پر معلومات اکھٹی کرکے ایک باقاعدہ کتاب تحریر کریں. یوں نعمت اللہ ہراتی نے ہندوستان میں موجود پشتون بزرگوں سے سینہ بہ سینہ معلومات کو اکھٹا کرکے اس کو کتابی شکل دینے کا سلسلہ شروع کیا. جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مخزن افغانی پشتونوں کی تاریخ پر اولین کتاب مانی جاتی ہے. لیکن اس کے باوجود مؤرخین، و محققین نے اس میں موجود کافی سقم بھی نکالے ہیں. جس میں قیس کی کہانی، کرانی قبیلہ کے بارے محیر العقول کہانی وغیرہ وغیرہ کافی ہیں. وہیں پر غلزى یا غلجی جنھیں ہندوستانی مصنفین نے خلجی بھی لکھا (دراصل لفظ غیلځي).کے ساتھ مصنف نے تعصب سے کام لیا. جس کی وجہ مصنف کے آقا خان جہاں لودھی تھے. چونکہ مالوہ کے غلجی اور دہلی کے لودھی حکمرانوں کے تعلقات کبھی بھی دوستانہ نہیں رہے. تبھی لودھی پشتونوں کی ناک اونچی رکھنے کیلئے مصنف نے پہلے تو غلجی اور غلزی کے درمیان تفریق پیدا کی. پھر آگے چل غلزیوں کی پیدائش کو متنازعہ بنایا (ملاحظہ ہو بی بی متو اور شاہ حسین غوری کا واقعہ) بات یہیں پر ہی نہ رکی مزید بڑھ کر ہندوستان کے غلجی خاندان کو یکسر نظر انداز کرکے لودھیوں کے بارے میں دعویٰ ثابت کیا کہ وہ ہندوستان کے پہلے افغان حکمران تھے. دوسری طرف وہ خود لودھیوں کے نسب کو جا کر غوری خاندان سے جا ملایا. جو کہ ہندوستان کا نہ صرف پہلا مسلمان حکمران بلکہ پشتون خاندان تھا. جس کی تائید مخزن افغانی کے اپنے بیان سے ہوتی ہے جو اس بات کی بھی نفی کردیتا ہے کہ لودھیوں سے پہلے انکا جد غوری خاندان ہندوستان پر حکمرانی کر چکا تھا. . غوریوں کے نسب بارے میں مصنف ہٰذا نے طبقات ناصری کے مصنف کے بیان کو دہرایا. یاد رہے کہ طبقات ناصری مخزن افغانی سے پانچ سو سال پہلے تقریباً لکھی گئی تھی. اس کے مطابق غوریوں کا نسب شاہ نامہ فردوسی میں ذکر کردہ افسانوی شخصیت ضحاک سے ملتا ہے. جدید تاریخ میں ضحاک کا کوئی وجود نہیں ہے. بدقسمتی سے اسی افسانوی شخصیت پر بیسویں صدی کے مصنفین نے ایک قدم آگے بڑھ کر غوریوں کو تاجک بنا ڈالا..اب تاجک کی داستان سن لیں. جب اسلام ایران میں پھیلا تو ایرانیوں نے اُن عربوں کی اولادوں کو جو خراسان میں بس گئے تازک یا تاجک کہتے تھے. جبکہ جو موجودہ زمانے کے تاجک ہیں یہ دراصل سغدیانی لوگ ہیں جنھوں نے خود کو اُنھی عرب تاجکوں کی تاریخ میں چھپا لیا. موضوع سے دور نکل گئے لیکن دیکھیں کیسے کیسے تاریخ میں مغالطے ہیں جو آنیوالوں کو گمراہ کرتے ہیں. پس اگر ہم نعمت اللہ ہراتی کی بات کو مان لیں تو لودھی بھی نسلی طور پر تاجک بن جاتے ہیں جو کہ درحقیقت بلکل غلط بات ہے. بہرحال نعمت اللہ ہراتی کی لاپرواہی سے کیسے کیسے ابہام و مغالطے پیدا ہوگئے. سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ تاریخ فرشتہ نے غلجیوں کو چنگیز خان کی نسل سے ہونا لکھ ڈالا یہ بھی نہ دیکھا کہ غلجی چنگیز خان کی پیدائش سے بھی پہلے کے موجود تھے جن کا ذکر البیرونی نے بھی کیا. دوسری طرف بیسویں صدی کے انگریز مؤرخین نے غلجیوں کو ایک گمنام ترک قبیلہ خلج یا جنھیں خلخ بھی کہتے ہیں سے جا ملایا.. حالانکہ کسی نے یہ تک نہ سوچا اگر غلجی ترک ہوتے تو کیکاؤس کے مرنے کے بعد جب تخت و تاج کی لڑائی شروع ہوئی اور جب جلال الدین غلجی تخت دہلی کا امیدوار ہوا تو ترک امراء نے اس کی شدید مخالفت کی. اور وجہ مخالفت یہ تھی کہ جلال الدین غلجی ترک نہیں تھا. یہ بیان تاریخ فیروز شاہی میں صراحت کے ساتھ موجود ہے. اب جبکہ جلال الدین غلجی ترک بھی نہیں تھا اور غزنی کا رہنے والا تھا تو پھر پشتون کیونکر نہیں تھا جبکہ قلات غلزی جو غزنی کا علاقہ ہے وہ غلزیوں کا منبع ہے.. [2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Khaljies are Afghan". Abdul Hai Habibi. alamahabibi.com. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 اگست 2012. 
  2. لودھی اور غوری خاندان بھی درحقیقت غلجی پشتونوں کے گروہ کی ہی ذیلی شاخیں ہیں.. پس ہمیں تاریخ پر ازسرنو جائزہ لینا ہوگا.. تحقیق و ترتیب؛. نیازی پٹھان قبیلہ Www.niazitribe.org