صدیوں پرانے مینار (2001ء)

غزنی مشرقی افغانستان کا ایک شہر ہے اسے غزنین ،غزنہ، غزنو بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو شہر اولیا بھی کہا جاتا ہے۔49 ہزار 998 ہے۔ یہ صوبہ غزنی کا دار الحکومت ہے۔ شہر سطح سمندر سے 7 ہزار 280 فٹ (2219 میٹر) بلند ایک سطح مرتفع پر قائم ہے۔ یہ شاہراہوں کے ذریعے جنوب مغرب میں قلات، شمال مشرق میں کابل اور مشرق میں گردیز سے منسلک ہے۔ غزنی شہر کی آبادی کی اکثریت پشتون اور ہزارہ برادری پر مشتمل ہے۔ یہ شہر غزنی کے بادشاہوں ہے عروج کے زمانے میں دارالخلافہ رہا ہے بالخصوص سلطان محمود غزنوی نے اس کی شہرت کو چار چاند لگا دیے جس کی وجہ سے اسے حضرت غزنی کہا جاتا ،اس دور میں یہ شہر قوت و شوکت اور اسلامی عظمت کا بے مثال نمونہ تھا موجودہ غزنی سے شمال مشرق کو پانچ کلومیٹر دور قدیم غزنی کے کھنڈر موجود ہیں ۔غزنی شہر کے آثار آج بھی بڑی اچھی شکل میں موجود ہیں جس طرح لاہور کا شاہی قلعہ اچھی شکل میں موجود ہے اسی طرح غزنی کا قلعہ جس کے اندر شہر آباد تھا بڑی اچھی شکل میں موجود ہے ،،قرضی،، کے دور حکومت میں اس شہر اور اس کے آثار کی بقا کے لیے بڑے اقدامات کے گیے اور پرانی امارتوں جو کے ورثہ ہیں ان کی مرمت کی گئی ۔ کئی بزرگان دین کے مزارات بھی یہاں پر موجود ہیں۔[1]

غزنی خراسان کا ایک اہم شہر اور 962ء سے 1187ء تک سلطنت غزنویہ کا دار الحکومت تھا۔

شہر میں کئی شعرا اور سائنسدانوں کے مزارات ہیں جن میں مشہور ترین ابو ریحان البیرونی ہیں۔ غزنی کی قدیم عمارات میں 43 میٹر (140فٹ) بلند دو برج باقی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مینار محمود غزنوی اور اس کے صاحبزادے نے تعمیر کرائے تھے۔

افغانستان کی خانہ جنگی میں کچھ شہر جن کو نقصان نھی پہنچا ان میں سے ایک غزنی بھی ہے کیونکہ یہ شہر شہر اولیا ہے اور تمام افغانوں کے لیے یہ شہر افتخار کا باعث ہے اس وجہ سے یہ خانہ جنگی میں بھی محفوظ رہا

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

غزنی

حوالہ جاتترميم

  1. شرح کلام جامی ڈاکٹر شمس الدین،صفحہ 1115،مشتاق بک کارنرلاہور