ہسپانوی کنیسہ  میں بہن ہگاداہ  ایک دعائیہ تقریب میں "فرمان الحمرا  ہسپانوی یہودیت کو ختم کر دیگا".( 1350ء).

فرمان الحمرا  (جسے اخراج کے فتوی کے طور پر بھی جانا جاتا ; ہسپانوی: دیکریٹو  ڈی لا الحمبرا , ایڈیکٹو ڈی گرینادا) ایک شاہی فرمان اور فتوی تھا جو 31 مارچ 1492ء , سپین کے  کیتھولک فرمانرواہوں (قشتالہ کی اضابیلا  اول اور  آرآگؤن کے فرڈیننڈ  دوم ) کی طرف سے مشترکہ طور پہ جاری ہوا - جس کے مطابق یہودیت پر عمل پیرا یہود کو  قشتالہاور آراگؤن  کی ریاستوں  اور  مفتوحہ علاقوں سے اس سال 31 جولائی تک بیدخل کیا جائے .[1] اس فرمان کا بنیادی مقصد سپین کی  بہت بڑی نو مسیح آبادی پر یہود کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ دوبارہ یہودیت اختیار نہیں کریں گے،.1391 ء کے  مذہبی ظلم و ستم ، پروگروم اور منظم قتل عام کے تحت نصف سے زائد ہسپانوی یہودیوں کے مذہب کو تبدیل کر دیا گیا تھا .[2] 50,000 مزید  درج بالا مظالم کے بعد بھی جاری حملوں کے نتیجے میں 1415 تک مذہب تبدیل  کر چکے تھے .[3] مسیحی مظالم سے بچ جانے والے یہود  نے   جلاوطنی کے خوف سے مسیحیت قبول کیا . اس فرمان الحمرا کے نتیجے میں ہونے والی ظلم و ستم سے پہلے سالوںمیں 200,000 یہود کو کیتھولک مسیحیوں میں تبدیل کیا گیا جبکہ  40,000 سے ایک لاکھ  یہود کو ملک بدر کیا گیا ، جلاوطنی کے بعد آنے والے سالوں میں ایک غیر متعین تعداد کی سپین واپسی ہوئی.[4]:17

حوالہ جاتترميم

  1. "The Edict of Expulsion of the Jews - 1492 Spain". www.sephardicstudies.org. اخذ شدہ بتاریخ 27 جون 2017. 
  2. Perez (2012, p. 17)
  3. Gerber، Jane (1994). The Jews of Spain: A History of the Sephardic Experience. New York: The Free Press. صفحات 1–144. ISBN 978-0029115749. 
  4. Pérez، Joseph (2007). History of a Tragedy: The Expulsion of the Jews from Spain (بزبان انگریزی). ترجمہ بذریعہ Hochroth، Lysa. University of Illinois Press. ISBN 9780252031410.