امام قالون نافع بن عبدالرحمن المدنی جو قراء سبعہ میں سے کے شاگرد تھے جن کا اصل نام عیسیٰ بن مینا المدنی ابوموسیٰ تھا۔ امام ذہبی کہتے ہیں: ان کی قراء ت کے اچھا ہونے کی وجہ سے ان کو قالون کا لقب ملا اور قالون رومی لفظ ہے جس کا معنی ’اچھا‘ہے۔ یہ ہمیشہ امام نافع پر قرأ ت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ قرأ ت میں ماہر بن گئے۔[1] امام نقاش نے کہا کہ قالون سے کہا گیا۔ آپ نے کتنی دیر نافع سے پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا اس قدر زیادہ پڑھا ہے کہ جسے میں شمار نہیں کر سکتا مگر یہ مجھے یاد ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں بیس سال ان کے پاس رہا ہوں۔‘‘ [2] امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ: امام قالون بہرے تھے وہ قرآن پڑھاتے تھے اور طلبہ کی غلطی ادا لحن کو ہونٹوں سے سمجھ لیتے تھے۔‘‘ [3] امام ذہبی کہتے ہیں: مقرء المدینۃ تلمیذ نافع ھو الإمام المجود النحوي ’’مدینہ کے مقری، نافع کے شاگرد تھے وہ امام مجود اور نحوی تھے۔‘‘[4]

قالون
معلومات شخصیت
وفات سنہ 835  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ نافع بن عبدالرحمن المدنی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر اسلامیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حوالہ جاتترميم

  1. معرفۃ القراء: 1؍326
  2. غایۃ النھایۃ: 1؍542
  3. غایۃ النھایۃ: 1؍543
  4. (سیر أعلام النبلا: 10؍326