مسلمان ہر سال 10 ذوالحجہ کو حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے حلال جانور قربان کرتے ہیں اسی کو قربانی کہتے ہیں۔

تاریخترميم

حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ حضرت ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ بچے ہی تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو ﷲ کے حکم سےاس بنجر اور ویران علاقے میں چھوڑ دیا جو اب مکہ معظمہ کے نام سے مشہور ہے۔ اور عالم اسلام کا قبلہ ہے۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمیں ذبح کر رہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منھ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی۔ اے ابراہیم ! تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم احساس کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور ہم نے اس کے لیے ذبح عظیم کا فدیہ دیا۔ مفسرین کا بیان ہے کہ خدا کی طرف سے ایک مینڈھا آگیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ یقینا قربانی نام ہے اپنی جان و مال کو راہ خدا میں اس طرح قران کر دینے کا جس طرح حضرات ابراہیم نے اپنی لاڈلی اولاد کو قربان کر دیا۔ یہ جذبہ ہر انسان کے دل میں بوقت قربانی موجود ہونا چاہٸے کہ وہ اپنی اولاد کو ذبح کر رہا ہے۔[1] [2]حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی مدد سے مکے میں خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اور اس طرح دنیا میں اللہ کا پہلا گھر تیار ہوا۔

ذبیحہترميم

گھریلو چوپایا جانور (جیسے گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور اونٹ) جو سنت ابراہیمی ادا کرنے کی نیت سے بقرعید کے دنوں میں ذبح یعنی قربان کیا جائے اسے قربانی کا "ذبیحہ" کہا جاتا ہے۔

جماعت اہل حدیث (غیر مقلدین) کے مطابق "مرغ" کی قربانی بھی جائز ہے [3] لہٰذا ان کے ہاں مرغ کو بھی قربانی کا ذبیحہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

  1. "قربانی کے احکام و مسائل". Aj Ki Duniya Urdu. 
  2. [Ajkiduniya99.in "Aj Ki Duniya Urdu"] تحقق من قيمة |url= (معاونت). 
  3. فتاویٰ ستاریہ، ج 2، ص 72، مکتبہ سعودیہ: کراچی.