قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کا اسکینڈل

قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کو 2015 کا سب سے بڑا سکینڈل سمجھا جا رہا ہے۔ 2006ء سے 2014ء کے دوران حسین والا ضلع قصور میں 280 سے 300 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر اُن کی ویڈیو بنائی گئی اور پھر ان ویڈیوز کی مدد سے ماں باپ کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے بٹورے گئے۔[1] کچھ لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس واقعے میں پولیس اور مقامی ایم پی اے ملک احمد سعید بھی ملوث ہیں۔[2]

ضلع قصور پنجاب

حکومتی رد عملترميم

رانا ثناء اللہ تنازعترميم

8 اگست کو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے بیان دیا کہ قصور میں اس طرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ یہ زمین کا تنازع تھا جس وجہ سے الزام لگایا جا رہا ہے۔ اُن کے بیان کو میڈیا میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔[3]

وزیر اعلیٰ پنجاب کا رد عملترميم

9 اگست کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے محکمہ داخلہ کو ہدایات کی کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو ان واقعات کی تحقیق کرے۔[4] لیکن عدالت عالیہ لاہور نے اس بات سے معذرت کرلی کہ ایسے کیسز کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہوسکتی۔

سیاسی مداخلت اور پولیسترميم

مقامی مسجد کے 60 سالہ بزرگ امام نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا کہ متاثرہ بچوں کی تعداد 300 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہم 7 ماہ سے اس پر احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے اس حوالے سے اعلان کرنے پر انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔جب ایم پی اے شیخ وسیم اتوار کی رات پہلی مرتبہ گائوں پہنچے۔ اس موقع پر بعض اہل علاقہ نے مجرموں کو تحفظ دینے کی کوشش کرنے پر حکومت کیخلاف احتجاج بھی کیا۔

سیکنڈل منظرعام پر آنے کے پہلے روز سے پولیس اور حکومت اسے دبانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ پولیس کے اس سکینڈل میں ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں رہ گیا۔ مقامی لوگ تو تھانے کے سٹاف سے لے کر ڈی پی او تک کو مجرموں سے بھتہ وصولی میں ملوث قرار دیتے ہیں۔ جس سطح پر یہ گھنائونا کاروبار کئی سال سے جاری تھا‘ یہ ممکن نہیں مقامی سیاست دان اس سے لاعلم ہوں۔ پولیس کا اس معاملے میں کردار دلال سے کم نہیں رہا۔ جو دادرسی کے لیے آنیوالوں کو بھگا دیتی تھی اور امام مسجد کو آواز بلند کرنے پر گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ فریقین کا مک مکا ہے‘ میڈیا خواہ مخواہ اچھال رہا ہے۔ ان کے بقول ایسا کوئی جرم سرزد ہوا ہی نہیں۔[5]

پولیس اور مظاہرین میں تصادمترميم

8 اگست کو، بچوں سے زیادتی کے خلاف مقامی آبادی بالخصوص متاثرہ بچوں کے والدین نے شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے دیپالپور روڈ اور دیگر قریبی سڑکوں پر مظاہرین کو روکنے کی کوشش جس کے رد عمل میں مظاہرین نے اور پولیس میں تصادم بھی سامنے آیا ،مظاہرین نے پولیس پر پتھروں سے وار کیے جبکہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. جاوید، اشرف (8 اگست 2015). "پنجاب میں پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی جرم". دی نیشن. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2015. 
  2. Out on streets: ‘Kasur DPO, RPO and lawmakers must be sacked’ - The Express Tribune
  3. "Kasur child molestation scandal baseless, says inquiry report". ڈان. 8 اگست 2015. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2015. 
  4. "Shahbaz promises judicial inquiry into Kasur incident". دی نیوز انٹرنیشنل. 10 ا‎کت 2015. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2015. 
  5. قصور زیادتی سکینڈل: 30 ویڈیو کلپس میں 10 ملزموں کی