مرکزی مینیو کھولیں
ماد
Median Empire.jpg 

زمین و آبادی
دارالحکومت ہگمتانہ  ویکی ڈیٹا پر دارالحکومت (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حکمران
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 678 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاسیس (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمر کی حدبندیاں
سرکاری ویب سائٹ {{#اگرخطا:|}}

ماد (قدیم فارسی Māda-, سنسکرت: मैढ़; عبرانی: מָדַי‎‎) ایران کی قدیم تاریخ دراصل دو آریائی قبائل، میدی یا ماد اور پارس کے سیاسی عروج سے ہوتی ہے۔ آریوں کے ورد سے صدیوں پہلے جنوبی ایران میں سوسیانہ یا خوزستان میں علامی (Elamic) آباد ہوچکے تھے اور شمال مغربی حصہ پر آشوری (Asurianes) اپنی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس سرزمین پر آریوں کو قدرتی طور پر ان دونوں سے جنگ کرنی پڑی تھیں۔ میدیوں نے ایک شہر ہگبتان یا یکتبان یا امدان (Aogmtana or Ecbatana or Amadna) اور پارس نے پرسومش (Parsumash) اور پرساگرد (Parsagarda) آباد کیا۔ ہمیں پارسکے حالات خود ان کی تحریروں میں کم و بیش مل جاتے ہیں، مگر میدیوں نے کوئی ریکارڈ نہیں چھوڑا۔ ان کے حالات آشوری کتبوں، یہود ملفوظات اور یونانی مورخین کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ آشوری بادشاہ تغلد بلاسد دوم Tiglath Plaser 2ed (1115 تا 1102 ق م) کے ایک کتبہ پر پہلی بار میدیا اور اس کے دار الحکومت امدان کا نام ایک محکوم خطہ کی حثیت سے آتا ہے۔ اس کے بعد شلما نصر سو مShamaneser 3ed (857۔ 823 ق م) کی روایات میں ان دونوں قبائل کا ذکر ملتا ہے، کہ اس نے پارسو (Parsu) کے بادشاہ سے خراج وصول کیا اور ماد (Madd) کی سر زمین تک پیش قدمی کی۔ شمش عداد پنجم Shamesh Adadd 5th(823۔811 ق م) اور تغلد بلاسر سوم Tiglath Plaser 3ed (745 تا 727 ق م) کے کتبوں میں بھی ان کا ذکر محکوم قوموں کی حثیت سے ان کا ذکر آیا ہے۔ ان تذکروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 058 ق م تک انہوں نے سیاسی اہمیت حاصل کرلی تھی۔ اس کے بعد سرغون دوم Sargon 2th کے کتبے پر ایک شخص دیا کو (Diaaukhu) یونانی ڈیوکس (Deioces) کا نام ملتا ہے، جس کو ہیروڈوٹس نے میدیوں کا پہلا بادشاہ کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دیاکوسے ہی سیاسی تاریخ کی ابتدا ہوتی ہے۔[1]

مادی اشوری معرکہ آرائیترميم

دیاکو (907 تا 656 ق م) نے اپنا دار الحکومت امدان کو بنایا، جسے آج کل ہمدان کہتے ہیں۔ دیاکو کے بعد اس کا بیٹا فرورتش یا خشاتریتا Khshathrites or Frtisha نے آشوریوں کی محکومی کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور پارس کو زیر نگیں کر لیا۔ اس نے آشوری فرمانروا آشور بنی پال کے خلاف شازش کی اور یہ سازش ناکام رہی۔ آشور بنی پال (Asurbanipal) نے اپنے تمام دشمنوں کو یکے دیگر کچل ڈالے اور میدیاپر چڑھائی کرکے فرورتش کو قتل کر دیا۔[2]

اشوریوں پر مادی فتحترميم

فرورتش کے قتل کیے جانے کے بعد اس کا بیٹا ہو خشتر (Urekhashtar) جس کو یونانی سیاکسز (Cyaxares) کہتے ہیں حکمران ہوا۔ اس وقت ایران و عراق کی سر زمین انقلابات سے دوچار تھی۔ ایک طرف سیھتیوں کے ہنگامے برپا تھے، دوسری طرف کلدانی ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ ہوخشترنے غیر معمولی جرت سے کام لے کر فوج کو منعظم کیا اور اس نے پہلے سیھتیوں کو شکست دی اور انہیں صلح پر مجبور کیا۔ اس کے بعد اس نے پارتھیاکو زیر نگیں کیا اور پرسومش اور پرساگرد کے خورس اول اور اریارامن کو جنہوں نے آشوری سیادت قبول کرلی تھی، میدی حکومت کی بالا دستی پر راضی کر لیا پھر اس نے سیتھیوں اور کلدانیوں کے ساتھ مل کر آشوریوں کے دار الحکومت نینواہ پر چڑھائی کی اور آشوریوں کو شکست فاش دی۔ اس طرح آشوریوں کی سیادت کو ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور آشوریا کے علاقوں کو میدیامیں ضم کرکے اسے وسیع کیا۔[3]

فتح نینواہ کے بعد ہوخشترنے اپنی پوتی امیتیس (Amitis) کی شادی بنو پلاسر (Nebupalassar) کے بیٹے بنوکد نضر (Nabuchd Nezzar) کے ساتھ کرکے سیاسی اتحاد کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ ہوخشترکو اپنے آخری عہد میں لیڈیا(Lydia) سے جنگ کرنی پڑی، جو چھ سال تک جاری رہی۔ جب سورج پر گہن لگا تو طرفین نے اسے آسمانی بلا سمجھا اور صلح پر راضی ہو گئے اور دریائے ہیلس (Halys) دونوں کی سرحد قرار دیا گیا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 25 تا 26) ہوخشترکی موت کے بعد اس کا بیٹا ارش نی ویگا یااستیاغیس Astyages or Arshtivaiga (584 تا 550) ق م حکمران بنا، اس کے ساتھ ہی میدیا کا ذوال شروع ہو گیا۔ ایک طرف بابل سے کشمکش شروع ہو گئی اور دوسری طرف پارس کی ریاست کے حکمران خورس دوم نے بغاوت کردی۔ استیا غیس کا سپہ سالار خورس کے ساتھ مل گیا اور جنگ میں استیاغس کو جنگ میں شکست ہوئی اور وہ گرفتار ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی خاندان مادکی حکومت ختم ہو گئی۔[4]

خدای بزرگ است اهورامزدا، که بزرگ‌ترین خدایان است، که این زمین را آفرید، که آن آسمان را آفرید، که مردم را آفرید، که خوشبختی را برای مردم آفرید...

ماد کی تاریخترميم

ماد کی تاریخ سے متعلق روایات جو یونان قدیم کے دو مورخ ہردوت اور کتسیاس نے بیان کی ہیں وہ ایک دوسرےسے کافی مختلف ہیں۔ ماد کے بادشاہوں کی تعداد اوران کی فرمانروائی کی مدت کتسیاسکی نظریہ کے مطابق ہردوت کی بیان کردہ تعداد سے بہت زیادہ ہیں، حالانکہ آج کے دور میں ان کا بےبنیاد ہونا مسلم اور ثابت ہوچکا ہے۔

715 یا 716 میں روما بادشاہ اور ارتو نے دیااوکو کی مدد سے آشور کے بعض علاقوں میں شورش برپا کی . حالانکہ آشور بادشاہ سارگن دوم نے ان کی بغاوت کو سرکوب کر دیا اور دیااوکو اور اس کے خاندان کو گرفتار کرکے موریا کے شہرخماہ کی طرف جلاوطن کر دیا۔ حالانکہ موجودہ تاریخ روزگار نے جوکچھ دیا، اوکوکے بارے میں جوکچھ لکھا، وہ کچھ ہردوت نے دیوکس (مادکی حکومت وسلطنت کے بانی)کے بارے میں لکھا ہے اس سے کافی مختلف ہے۔ اس میں 10سے 15 سال تک کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ احتمال اس بات کا ہے کہ دیوکس ہردوت ہی دیااوکو ہے جس کا ذکرآشوری منابع میں ذکر ہوا ہے۔ اگرچہ جوکچھ ہردوت نے دیوکس کی مستقل سلطنت اور اکباتان(ہمدان) کو پائتخت بنانے اور اس کے اندر سات قلعوں کو بنانے کے بارے میں لکھا ہے وہ محل نزاع واختلاف ہے اوراس کا وجود ثابت نہیں ہے، اس لیے کہ آشوری فرمانروا اس طرح کی عظیم عمارتوں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

ہردوت کی روایت کے مطابق مادوں نے دیوکس کو قضا کے امور میں عدالت، دیانت داری کی وجہ سے انتخاب کیا جبکہ اس نے کچھ دن کے بعد اس کام سے کنارہ گیری اختیارکرلی۔ یہاں تک کہ آخر میں لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا، بہرحال دیا وکولی مادی بادشاہ کی حکومت ایک فرعی حکومت جبکہ مادی کی مستقل حکومت کا قیام بعد میں ظہورمیں آیا۔ فرورتیس(جسے یونانی زبان میں فرا ارتش کہاجاتا ہے) کو 675 یا 674 میں دیااوکو کاجانشین بنایا گیا ظاہرا یہ بات پارسیوں کو اپنا مطیع بنانے کے بعد کی ہے(6702 ق) اس نے یہ کوشش کی کہ مادوں اورمانای وکیمسری قبائل میں کہ جو آٹھویں صدی ق میں قفقاز سے ایرانی سرزمین میں داخل ہوئے تھے، آشوریوں کے خلاف متحد کرے۔ سر انجام جب فرورتیش اپنے متحد لشکر کے ساتھ آشورحکومت کی راجدھانی نینوا پہنچا، سکاھا نے پیچھے سے ان (مادوں) پر حملہ کر دیا اس حملہ میں جو ظاہرا آشور بادشاہ کی درخواست پرکیا گیا تھا، فرورتیش مارا گیا (653) اور سکاھانے 28 سال تک ماد سلطنت پر قبضہ جمائے رکھا. جب ہووخشترہ اپنے باپ کا جانشین (جو ظاہرا کمسن تھا) ہوا تو اس نے مجبور ہوکر سکاھا سے صلح تو کرلی مگر بعد میں اس نے سکاھا بادشاہ اوراس کے افسروں اور عہدیداروں کو تہ تیغ کرڈالا اوران کی حکومت کا خاتمہ کرڈالا (625) ہووخشترہ کا شمار ماد حکومت کے بانی کے طور پرہوتا ہے، اس نے فوج کو باقاعدہ منظم کیا، فوج میں پیادوں اورسواروں کے نظام کو تشکیل دیا اور سکاھا فوج کی باقی ماندہ سپاہ کو اپنی فوج میں داخل کر لیا اورجب ماد پارس، مانای کے قیام قبایل نے اس کی اطاعت قبول کرلی تب اس نے آشورحکومت کی داخلی وخارجی مصیبتون سے فایدہ اٹھاتے ہوئے خود کو اس عظیم سلطنت پر حملہ کے لیے تیار کیا ہووخشترہ نے اپنے ہم پیمان بنوپولسر (بادشاہ بابل) کے ساتھ چند ناکام حملوں کے بعد سر انجام نینوا کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اوراس پرقبضہ کرنے کے بعد اس کوغارت اورویران کر دیا. (612)کچھ مدت کے بعد آشوریوں کی رہی سہی آخری طاقت بھی ٹوٹ گئی(610 یا 609) اس کے بعد آشوریوں کی کہن سال عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ عظیم حکومت ماد اور بابل کے بادشاہوں نے آپس میں تقسیم کرلی اورماد کی حکومت ایک تازہ سلطنت کے طورپرایک محکم قدرت بن کر تاریخ اسلام کے صفحات پر ظاہرہوئی۔


اس کے بعد ہووخشترہ نے اپنی سلطنت کو اور بڑھانا شروع کر دیا اور ایشیا کوچک میں لیدیا حکومت سے آمنا سامنا ہوا ان دو نئی قدرتوں کی جنگ 5 سال تک جاری رہی اورسر انجام(28مئی 585۔)کوسورج گرہن کو فال بد سمجھ کر اس جنگ کاخاتمہ کر دیا گیا اور رودھالیس کو دونوں ملکوں کی سرحد قبول کر لیا گیا، صلح کی گفتگو کے دورانی عرصہ میں ہووخشترہ کا انتقال ہو گیا اوراس کا بیٹا الیشتوویگو (یونانی زبان میں اسے آستواگس یاآستیاگ کہتے ہیں) اس کے تخت پر بیٹھنے کے بعد (585 ق) الیشتوویگوکی 35سالہ حکومت بہت کم باتیں مورخین نے نقل کی ہیں اس نے اپنی سلطنت کے آخری ایام میں بابل پر حملہ اورمران پرقبضہ کی ٹھانی مگراس سے پہلے کہ حملہ کرتا پارسی قبیلوں کی بغاوت کی خبرملی جس کا رہبر کورش ہخامنش تھا۔ امشان بادشاہ جو ظاہرا اس کا پوتا تھا، آ پہنچا اورایشتوویگو اپنے پائتخت کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو گیا۔ تین سال تک دونوں دشمنوں میں جنگ کا سلسلہ جاری رہا آخر کار ایشتوویگو کی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کردی اور ماد بادشاہ کو پکڑ کر کورش کے حوالہ کر دیا(550 یا 549 ق)۔ کچھ ہی عرصہ بعد مادوں کی پائتخت پرکورش کا قبضہ ہو گیا اوراس طرح پہلی مستقل ایرانی حکومت کا زمانہ اختتام پزیر ہو گیا۔

مذید دیکھیںترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 21 تا 23
  2. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 23 تا 24
  3. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 24 تا 25
  4. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم