اشوریہ کا بادشاہ۔ بابی لونیامصر، (جنوب مغربی ایران) فلسطین اور شام کا فاتح۔ 650 ق م میں مصر اس کے قبضے سے نکل گیا۔ لیکن 648ء میں اس نے بابی لونیا کی بغاوت کو سختی سے کچل دیا۔ اس نے اپنے عہد میں عالی شان مندر اور محل تعمیر کرائے۔ علما و فضلا کا سر پرست تھا۔ اشوریہ کے درالحکومت نینوا میں اس نے ایک عظیم کتب خانہ(لائبریری) کی بنیاد رکھی جو اس عہد کا انمول علمی خزانہ تھا۔ جس میں ایک اندازے کے مطابق دس سے پچیس ہزار تکالواح سفالی(مٹی کی تختیوں ) پرلکھا تحریری مواد تھا جس کا کچھ حصہ اببرٹش میوزیممیں محفوظ ہے۔ اس کی وفات کے بعد اہل بابل نے 612 ق م مدائن اور فارس کے لوگوں کی مدد سے نینوا پر چڑھائی کی اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ شہر کی تمام آبادی موت کے گھاٹ اتار دی گئی۔ اس کے بعد سلطنت اشوریہ حرف غلط کی طرح مٹ گئی۔

اشور بنی پال
Ashurbanipal II, detail of a lion-hunt scene from Nineveh, 7th century BC, the British Museum.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 685 ق م  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نینوا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 627 ق م  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نینوا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت اشوریہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد اشور ایتیل ایلانی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد آسرحدون  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
بادشاہ جدید آشوری سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
668 ق.م  – 626 ق.م 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png آسرحدون 
اشور ایتیل ایلانی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ مقتدر اعلیٰ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مزید دیکھیےترميم

کتب خانہ اشور بنی پال