متشکک توما (انگریزی: Doubting Thomas) سے مراد ایک ایسا متشکک شخص جو کسی شخصی تجربے کے بغیر کسی معاملے پر یقین کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ تاریخی طور پر مسیحی مذہبی ادب سے ماخوذ ہے جس میں عیسی مسیح کے حواری توما نے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد واپس آنے کے بعد یہ یقین کرنے کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ عیسی مسیح اپنے حواریوں کے رو بہ رو دوبارہ نمو دار ہوئے۔ تاہم جب اسے عیسی مسیح کے صلیب پر ملنے زخموں کا احساس ہوا، تب وہ اس ذاتی تجربے اور مشاہدے کے بعد عیسی مسیح پر نازل ہونے والی مصائب کا پر یقین کرنے لگا۔

متشکک توما سے متعلق ایک سولہویں صدی کی تصویر

فن مصوری میں اس واقعے کو (جسے سابقًا توما کی بد اعتمادی کہا گیا تھا) اکثر اُتارا گیا ہے اور یہ سلسلہ کم از کم پندرہویں صدی سے بار بار جاری رہا ہے۔ اس تصویری نمائش کے پس پردہ کئی مذہبی تاویلات کو وقتًا فوقتًا پیش کیا جاتا رہا ہے۔


کہانی کی مثبت تعبیرترميم

مختلف حکقوں اور گوشوں سے اس کہانی اور اس کی مصوری کی مختلف تعبیر کی گئی ہے۔ اکثر متشکک توما سے مراد متشکک یا مشکل سے کسی ناشنیدہ و نادیدہ واقعے پر یقین کرنے والا شخص مراد ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ لوگ اس کی مثبت تعبیر بھی کرتے ہیں اور توما کی سپاس گزاری پر زور دیتے ہیں۔ ایک ایسے ہی مسیحی مبلغ جوناتھن میرٹ کے مطابق:

عیسٰی کہاں جاتے ہیں؟ کیا وہ کالوری کی پہاڑی جاکر چیختے ہیں: “دیکھو، یہ صلیب!“ نہیں۔ عیسٰی دوبارہ اٹھتے ہیں اور دوبارہ کھانے کے کمرے میں جاتے ہیں تاکہ دائمی امن اور شکریے کی میز سب کے آگے پیش ہو۔ اور اس سے پہلے کہ کہانی میں کسی کی حصے داری ہو، سپاس گزاری خوف کو دور کرتی ہے اور شکریے کا اظہار غم کی جگہ لے لیتا ہے۔ [1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم