مثنوی مولانا رُوم جو مثنوی مولوی معنوی سے بھی معروف ہے، ایک کتاب ہے جس نے مولانا کے نام کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے اور جس کی شہرت اور مقبولیت نے ایران کی تمام تصانیف کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کے اشعار کی مجموعی تعداد، (جیسا کہ کشف الظنون صفحہ 1589 جلد 2 مکتبہ طباعت دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان میں ہے) 26660 ہے۔ مشہور یہ ہے کہ مولانا نے چھٹا دفتر ناتمام چھوڑا تھا اور فرمایا تھا کہ

مثنوی مولانا روم

باقی ایں گفتہ آید بی گماں
در دل ہر کس کہ باشد نور جاں

اس پیشین گوئی کا مصداق بننے کے لیے بہت سے افراد نے کوششیں کیں اور مولانا سے جو حصہ رہ گیا تھا اسے پورا کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے بیماری سے نجات پا کر خود اس حصے کو پورا کیا تھا اور ساتواں دفتر لکھا تھا جس کا مطلع یہ ہے

اے ضیا الحق حسام الدیں سعید
دولتت پائندہ عمرت بر مزید

مثنوی کی شہرت اور مقبولیت

ترمیم

مثنوی کو جس قدر شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، فارسی کی کسی کتاب کو آج تک نہیں ہوئی۔ صاحب مجمع الفصحا نے لکھا ہے کہ ایران میں چار کتابیں جس قدر مقبول ہوئیں، کوئی نہیں ٰہوئی۔

شاہ نامہ
گلستان
مثنوی روم
دیوان حافظ

ان چاروں کتابوں کا موازنہ کیا جائے تو مقبولیت کے لحاظ سے مثنوی کو ترجیح ہوگی۔ مقبولیت کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ علما و فضلا نے مثنوی کو جس قدر اہمیت دی اور کسی کتاب کو نہیں دی۔ کشف الظنون ایک مشہور شرح ہے۔ جس کے بعد بھی کئی شرحیں لکھی گئی مثلا شرح محمد افضل الہ آبادی، و ولی محمد، و عبد العلی بحر العلوم و محمد رضا وغیرہ وغیرہ۔ چند شرحیں جو مثنوی روم کی لکھی گئی اور جن کا نقشہ کشف الظنون سے ماخوذ ہے مندرجہ ذیل ہے

مثنوی کی شرحیں

ترمیم

مولی مصطفی بن شعبان سودی کی شرح چھ جلدوں میں ہے
شیخ اسماعیل انقروی یہ بھی چھ جلدوں میں ہے
کمال الدین خوارزمی کی کنوز الحقائق
عبد اللہ بن محمد رئیس الکتاب درویش علمی۔ یہ جلد اول کی شرح ہے۔ یوسف المتوفی نے 953 میں مثنوی کا خلاصہ کیا تھا، یہ اس کی شرح ہے۔
طریفی حسن چلپی کی کاشف الاسرار، بعض اشعار کی شرح ہے۔
علاؤ الدین مصنفک حسین واعظ، خلاصہ مثنوی کی شرح ہے، اس کے دیباچے میں دس مقالے ہیں جس میں اصطلاحات تصوف اور فرقہ مولویہ کے مشائخ کے حالات ہیں۔
شیخ عبد المجید سیواسی، سلطان احمد کے حکم سے تصنیف ہوئی۔
علائی بن یحیی واعظ شیرازی اسماعیل ودہ کی ازھار مثنوی۔ صرف احادیث و آیات قرآنی و الفاظ مشکلہ کی شرح ہے۔[1]

کلید مثنوی، اشرف علی تھانوی نے 24 جلدوں میں اردو زبان میں شرح لکھی ہے۔ معلومات و رموز و حقائق تصوف کا جو سمندر مثنوی میں پوشیدہ ہے اس کی تفصیلات کے لیے یہ شرح بے نظیر ہے۔ اس کو ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان نے چھپا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. سوانح مولانا روم از شبلی نعمانی