محمدمحمود الرحمن

خواجہ محمد محمود الرحمٰن چھوہروی خانقاہ قادریہ کے بانی خواجہ محمدعبدالرحمٰن چھوہروی کے بیٹے تھے۔

ولادتترميم

آپ کی ولادت کی خوشخبری حضرت خضرعلیہ السلام نے آپ کے والد بزرگوار کو قبل از ولادت دے دی تھی۔آپ کی ولادت 1907ء میں اپنے آبائی گاؤں چھوہر میں ہوئی ۔آپ نے بچپن اپنی والدہ محترمہ کی تربیت میں گزاراجوضلع ایبٹ آبادکے گاؤ ں" گوجری" کی متورع و متشرع بزرگ ہستی میاں برکت اللہ ؒکی عابدہ ، زاہدہ اور شب بیدارصاحبزادی تھیں۔

تعلیم و تربیتترميم

آپ نے اپنے شیخ(والد) کے زیر سایہ مجاہدہ، ریاضت اور تربیت کے تمام مراحل انتہائی عزم و ہمت اورجانفشانی سے طے کئے۔خواجہ عبدالرحمٰن چھوہروی نے پہلےسلسلہ قادریہ میں بیعت فرمایااور جب آپ نے منازل سلوک طے کر لیں توپھر بعد میں چاروں سلسلوں میں بھی اجازت و خلافت عطا فرما دی۔آپ کو اپنے شیخ سے والہانہ محبت تھی اور بڑی تن دہی سے ان کی خدمت میں لگے رہتے تھےتا ہم یہ محبت یک طرفہ نہ تھی بلکہ حضرت عالی چھوہرویؒ بھی آپ سےحد درجہ محبت کرتے تھے اور سفر و خضر میں آپ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

خلافت و جانشینیترميم

آپ کے والد بزرگوارکی وفات کے بعد احباب و مریدین نے دستار خلافت آپ کے بڑے بھائی حضرت فضل الرحمٰن ؒ المعروف چن پیر کے سر پر رکھنا چاہی مگر انھوں نے دستار خلافت قبول کرنے کی بجائے آپ کو مسند نشینی کا اہل قرار دیا۔جانشینی کے بعد آپ ؒکے اخلاص ،للٰہیت اور جذبے نے خانقاہ قادریہ کو مرجع خاص و عام بنا دیا۔خانقاہ کو عوامی سطح پر جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ آپ ہی کی محنت و خلوص کا نتیجہ ہے۔ذکر و اذکار و دیگر باطنی اشغال نے خانقاہ کے ماحول کو پر کیف اور اثر انگیز بنا دیا تھااور کوئی بھی شخص اس ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔سلا سل تصوف کی جامعیت نے آپ کی سوچ میں جو اعتدال و توازن پیدا کر دیا تھا اس کی وجہ سے مسلکی اور فروعی اختلافات سے بالا تر ہو کر ہر طبقے کے لوگ تزکیہ نفس کے لئے اس خانقاہ کا رخ کرتےاور انسان دوستی اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم کے ساتھ اجتماعیت کا درس حاصل کرتے۔ [1] آپؒ بھی اپنے والد بزرگوار حضرت خواجہ چھوہرویؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دعوت الی الحق اورمخلوق خدا کی اصلاح و تزکیہ نفسوس کے سلسلے میں یکسوئی سے اپنی خدمات پیش کرتے رہے آپ کی دینی و اصلاحی فکر کو ذیل میں بیان کیا جاتاہے۔ آپ کے نزدیک تصوف صرف رسم و رواج یا روایتی اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ احوال و اعمال کی دنیا کو منقلب کر دینے کا نام ہے۔ آپ نے اپنے مخصوص انداز میں ہر ہر ذکر ، دعا اور طرزِ عمل کے اس گوشے اور پہلو کو بیان کر دیا جو اس کے عملی اطلاق کے لئے ضروری تھا۔آپ نے احوال و تعلقات اور اعلیٰ منازلِ تصوف کو صرف تخیّل واسرار کی دنیا تک محدود نہیں رکھاتھا۔ آپ تصّوف کو محض ذہنی آسودگی اور انفرادی تزکیہ تک ہی محدود نہیں کرتے تھےاور نہ ہی آپ کے نزدیک تصوّف گوشہ نشینی و عزلت نشینی ہی کا نام تھا بلکہ اس کے برعکس آپ تصوّف کو عملیت پسندی اور اجتماعی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھتے تھے۔ تصوّف کے حوالے سے آپ کا ذہن بڑا عملیت پسند تھا۔ آپ کے نزدیک تصوّف ظاہری طور پر محض ذہنی آسودگی اور روح حیوانی کی تسکین کا نام نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ عقل و شعور کی بالیدگی اور قلب کے پختہ عزم و ہمت کے ساتھ انسانی معاشرے کے لئےبہترین فکر و عمل کی تحریک پیدا کرنا تصوّف کا انتہائی اعلیٰ مقصد ہے۔[2]

سیرت و کردارترميم

آپ کی تعلیمات میں وصالِ حق اور معرفتِ ربّ کے حصول کا مئوثر اور زودرساں موجود ہےجس پر عمل کر کے سالکانِ حق اپنے سفر کو طے کر سکتے ہیں۔آپ کے طریقِ تصوّف کے چند نمایاں اجزاء یہ ہیں: 1۔ مجاہدہ: 2۔ پاس انفاس: 3۔ تصحیحِ خیال: 4۔ تربیت طریقِ عشق[3]

وفاتترميم

آپ کا انتقال 79سال کی عمر میں 1986ء میں ہوا۔ [4]

حوالہ جاتترميم

  1. حالات و کمالات سلطان عارفان خواجہ محمد عبدالرحمٰن چھوہرویؒ،ص 59
  2. مجموعہ صلوات الرسول مترجم، دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ،ص7
  3. تنولی، ڈاکٹر طاہر حمید، مکتوباتِ رحمانیہ، انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لاہور 2006،ص38۔
  4. حالات و کمالات سلطان عارفان خواجہ محمد عبدالرحمٰن چھوہرویؒ،ص68