عبدالرحمان چھوہروی

خواجہ عبد الرحمن صاحب چھوہروی ہری پور کی ولادت 1262ھ بمطابق 1836 1836 عیسوی میں صوبہ خیبر پختونخوا ضلع ہری پور میں ہوئی۔

نام و نسبترميم

غوث زماں عبد الرحمن چھوہروی کا نام نامی واسم گرامی خواجہ عبدالرحمن، والد کا نام خواجہ خضری صاحب لقب غوث وقت ہے۔ آپ نسباًعلوی ہیں ،مذہباً حنفی مشرباً قادری تھے۔ خواجہ عبد الرحمن صاحب کی عمر ابھی آٹھ برس کی تھی کہ آپ کے والدکا وصال ہو گیا۔

ولادتترميم

ولادت موضع چھوہر شریف میں ہوئی جو ہری پور (خیبر پختونخوا)کے قریب ہے۔ آپ کے والد گرامی خضری اپنے زمانے کے اولیائے کبار میں شمار ہوتے۔[1]

امی لقبترميم

آپ امی تھے نہ کبھی کسی مدرسہ گئے اور نہ کسی کی شاگردی اختیار کی فقط قرآن استاد سے پڑھا تھا باقی علوم مروجہ علم حدیث فقہ اصول منطق اور نہ لکھنا کسی سے سیکھا[2] جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو معلوم ہوتا تو بتا دیتے اگر نہ معلوم ہوتا تو کہتے صبر کرو میں حضور اکرم ﷺ سے پوچھ کر بتاتا ہوں پھر بغیر کسی مراقبہ اور آنکھ بند کرنے کے فرماتے حضور ﷺ سے دریافت کیا ہے ایسے مسئلہ ہے۔ آپ نے بظاہر رسمی تعلیم حاصل نہیں کی مگر آپ کو علم لدنی کی دولت عطا ہوئی تھی۔

والد صاحب کی رحلتترميم

جب آپ کی عمر 8سال ہوئی تو آپکے والد صاحب نے کہا کہ اب ایک میان مین دو تلواریں نہیں سما سکتیں اپنا وقت قریب آگیا ہے۔ اور پھر دار فانی سے رخصت ہو گئے۔[3]

بیعت وارادتترميم

بیعت کے لیے چند ساتھیوں کے ساتھ آخوند صاحب کے پاس جو اپنے زمانے کے خاندان قادریہ کے اولیائے کبار میں تھے سیدو شریف پہنچے وہاں خلق کا ہجوم تھا زیارت ممکن نہ تھی ساتھیوں نے واپسی کا مشورہ کیا طے پا گیا کہ صبح جائیں گے صبح آخوند صاحب نے خادمین کو بھیجا کہ جو ہری پور سے آئے ہیں انہیں میرے پاس لے گر اعلان ہوا لیکن آپ نے کہا کئی لوگ ہوں گے ہم کس شمار میں ہیں اصرار بڑھا تو کسی نے اشارہ کیا کہ یہ ہری پور سے آئے ہیں خادمین گود میں اٹھا کر لے گئے۔ انہوں نے فرمایا یہ ہمارا غوث ہے پھر پوچھا کہ آج خواب کیا دیکھا ہے انہوں نے عرض کی میں اپنے چلہ کاٹنے کی جگہ دیکھی ہے فرمایا وہیں چلے جاؤآپ کے مرشد وہاں آکر بیعت کریں گے۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے مرشد گرامی یعقوب شاہ صاحب گن چھتری کشمیر سے آکر بیعت فرما گئے([4]

القاباتترميم

منبع معارف لدنیہ ،مخزن علوم الٰہیہ،واقف علوم شریعت، مرشد طریقت،کاشف اسرار حقیقت،استاذ علوم تفصیلیہ ،امکانیہ و معلم حقائق وجوبیہ، قدیمیہ ازلیہ اجمالیہ و مفسر معارف توحیدیہ و مبین رموز حروف مقطعات قرآنیہ،صاحب قوت روحانی ،عالم ربانی عارف لاثانی،صاحب حکمت لقمان آصف ہذا الزمان خلیفہ شاہ جیلان،فخر متاخرین بقیہ سلف صالحین،متخلق باخلاق اللہ،متصف باوصاف رسول اللہ نمونہ اصحاب رسول کریم غوث اعظم، مرکز عالم ،[1]

اخلاق و عاداتترميم

آپ کے اخلاق حضور فخر دو عالم سید الکونین خلق عظیم احمد مجتبیٰ محمد مصطفے ٰ ﷺ کے ارشادات عالیہ کے عین مطابق تھے۔ سنت نبوی علیہ التحیۃ وا لثنا کا اتباع آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ آپ سے مستحبات بھی کبھی ترک نہیں ہوئے۔ مہمانوں کی خدمت خود کرتے۔ آپ کی خانقاہ اور مجلس میں بدعات اور مخترعات خلاف شرع کا نام تک نہ تھا۔ آپ نہایت ہی متواضع، خلیق صاحب حلم، عفو و درگزر کرنے والے، منکسر المزاج اور پردہ پوش تھے۔ علما فقراء وسادات کی قدر ومنزلت اور انتہائی ادب و احترام کرتے۔ آپ کی خانقاہ انتہائی سادہ اور ہر قسم کی آرائش وزبیائش سے پاک تھی۔ تمام اوقات مسجد ہی میں بسر ہوتے۔ طالب علموں کی خدمت اپنے لیے سرمایہ آخرت سمجھ کر بہت ہی محبت اور اخلاص سے خود کرتے۔ ’’ دار العلوم رحمانیہ اسلامیہ‘‘ کے ابتدائی دور میں طلبہ کے لیے کھانا وغیرہ چھوہر شریف سے تیار ہو کر ہری پور آتا۔ ایک دن بہت بارش تھی رات بھی تاریک تھی۔ آپ ؒ نے خادموں سے فرمایا کہ طلبہ کے لیے روٹی پہنچا دو۔ مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی۔ آپ بنفس نفیس روٹی اور کھانا اٹھاکر طلبہ کے لیے موسلاد ھار بارش میں لے گئے۔ سنت نبوی ﷺ کی اتباع کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حدیث شریف میں دیکھا کہ حضورﷺ نے مسجد کی چٹائی لے کر درست فرمائی ہے۔ آپؒ نے بھی اپنی مسجد کی چٹائی جو پھٹی ہوئی تھی سینی شروع کردی۔ اسی اثنا میں ایک بزرگ شاہ ولی بابا تشریف لے آئے اور آپ سے عرض کے اٹھو اور میرے لیے گھر سے مکھن لاؤ۔ آپ نے چٹائی سینے میں کچھ دیر لگائی تو شاہ ولی بابا فرمانے لگے کہ تما م چٹائی کا سینا سنت نہیں ہے۔ سنت ادا ہو گئی ہے، اٹھو اور مکھن لا دو۔ مجھے دیر ہوتی ہے۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ مجھے شاہ ولی بابا کی اس صفائی پر ہنسی آگئی۔ جناب حافظ سید احمد صاحب فرماتے تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کشف زمانی و مکانی اور عیانی مکمل و اکمل عطا فرمایا تھا۔ مگر آپ نے دو چیزوں سے توبہ کر لی تھی۔ ایک تو ’’ کشف کے اظہار سے ‘‘ اوردوسرے ’’ ضروریات زندگی کے خیال سے ‘‘۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بغیر طلب و خیال کے ضروریات زندگی مہیا اور پوری فرماتا تھا۔ چنانچہ ایک بار آپ گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میرے لیے سیاہ رنگ کی دوہری چادر بناؤ۔ باہر تشریف لے گئے۔ پھر گھر تشریف لے گئے اور منع فرما دیا۔ دوسرے دن ایک شخص آیا اور عرض کی میں باہر کہیں جاتا ہوں اور یہ سوت حاضر ہے بنوائی اور رنگائی کی مزدوری بھی پیش خدمت ہے۔ آپ اپنے لیے چادر بنوالیں۔ آپ نے فرمایا ’’ کہ میں نے اب اپنی ضروریات زندگی کا خیا ل بھی ترک کر دیا اور توبہ کرلی ہے اور جس روز سے توبہ کی ہے اللہ تعالیٰ بغیر خیال و طلب کے موسم گرما میں گرمائی کے کپڑے اور موسم سرما میں سرمائی کے کپڑے عنایت فرمادیتا ہے۔

سلسلہ قادریہ کی ترویجترميم

آپ نے سلسلہ قادریہ کی انتہائی کوشش کے ساتھ اشاعت کی۔ صرف ہزارہ ہی نہیں، بلکہ آپ کے مریدین کا سلسلہ کشمیر، صوبہ سرحد، افغانستان، عرب، ہندوستان، برمااور خصوصاً بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ جتنی سعئی پیہم آپ نے سلسلہ کی تبلیغ کے لیے کی اسی طرح آپ نے علوم اسلامیہ کی اشاعت کے لیے کوشش کی، اپنے گاؤں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہزارہ کے مشہور شہر ہری پور میں 1321ھ میں ایک عظیم الشان دار العلوم کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام ’’ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور‘‘ رکھا گیا اس کے مصارف اور تعمیر کا خرچ برما اور بنگال کے علاقہ کے مریدین نے برداشت کیے۔ اس دار العلوم میں درسی نظام کا مکمل انتظام ہے اور دورۂ حدیث بھی ہوتا ہے۔ دارالافتا بھی ہے۔ اس دار العلوم کے ساتھ پرائمری مدرسہ بھی ہے جس میں چھوٹے بچوں کے لیے دینیات اور تعلیم قرآن مجید کا بہت ہی اعلیٰ انتظام ہے۔ آپؒ کی خواہش کے مطابق دن دگنی رات چوگنی اس دار العلوم نے ترقی کی۔ اس دار العلوم کے فاضل بھی مخلوق خدا کی اصلاح میں مختلف شہروں میں بحیثیت خطیب کے مصروف ہے۔

اولادترميم

آپ کے تین صاحبزادے تھے

  • (1) مولانا مولوی فضل الرحمان صاحب المعروف ’’چن پیر ‘‘۔
  • (2) صاحبزادہ حاجی محمد فضل سبحان صاحب
  • (3) صاحبزادہ محمود الرحمن صاحب، یہ صاحب سجادہ نشین تھے، آپ کے صاحبزادہ طیب الرحمان صاحب تھے۔

وصالترميم

آپ کی عمر تقریبا80 سال تھی جب آپ کا وصال ہوا وصال یکم ذی الحج 1342ھ میں ہواآپ کا مزار ہری پور ،ہزاره موضع چھوہر شریف میں مرجع خلائق ہے۔

تصنیف باکمالترميم

آپ کی وجہ شہرت آپ کی عظیم تصنیف جو عربی زبان کا ایک شہکار ہے،"محیر العقول فی بیان کمالات عقل العقول المسمیٰ بہ مجموعہ صلٰوۃ الرسول"کئی برس پہلے تیار ہو چکی تھی لیکن زندگی میں چھپائے رکھا یہ ضخیم کتاب پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ خواجہ عبد الرحمن صاحبؒ امی (بے پڑھے ) تھے، علما اقرار کرتے کہ آپ صاحب علم ’’لدنی‘‘ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں ان روحانی تصرفات، کرامات، مکشوفات اور تدابیر عالم اجسام کے علاوہ دوکارنامے ایسے کیے کہ ہر ایک حق شناس اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس سے فائدہ حاصل کر ے گی۔ ایک تو ’’ داراالعلوم رحمانیہ اسلامیہ‘‘ ہری پور۔ اور دوسرا آپ کی تصنیف لطیف، ’’ محیر العقول فی بیان کمالات علق العقول المسمٰی بہ مجموعہ صلوٰت الرسول‘‘ ہے۔ اس کتاب کو آپ نے بارہ سال، آٹھ مہینے اور بیس دن میں لکھا۔ یہ کتاب درودشریف کی طرز پر تیس پاروں میں منقسم ہے۔ ہر پارہ کا الگ عنوان ہے اور وہ عنوان حضور اکرم عالم علوم اولین و آخرین احمد مجتبے ٰ محمد مصطفے ٰ ﷺ کی سیرت و شمائل پر ہے۔ یہ کتاب پہلی بار آپ کے ہی ارشاد پر آ پ کے خلیفہ اعظم حافظ سید احمدصاحب سری کوٹی نے چھپوائی اور اس کے اخراجات سیٹھ احمد اللہ صاحب کباؤ اور رنگون کے دوسرے مریدین نے برداشت کیے۔ پھر دوسری بار 1953ء میں حافظ سید احمد صاحب نے زر کثیر خرچ کر کے تین جلدوں میں پشاور سے شائع کی۔ اس کتاب کی تعریف و توصیف بیان سے باہر ہے، اس کتاب کی قدر و ہی کر سکتا ہے جو اس کا مطالعہ کرے۔ حافظ سید احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ آپ نے اپنے علوم و معارف، اپنے جذبات عشقیہ اور تصرفات عالم ملکوت و ناسوت اور علوم حقائق و جوبیہ قدیمیہ ازلیہ اجمالیہ اور علوم مراتب صفاتیہ امکانیہ تفصیلیہ اور اقسام مراتب توحیدیہ، وجودیہ اور شہودیہ وغیرہ کمالات کو اس کتاب میں اجمالاً و تفصیلاً اشارۃ ً و کنایۃً بیان فرما دیا ہے۔ یہ کتاب آپ ے کمالات پر شاہد عدل ہے۔ یہ کتاب آپؒ کے حسن و جمال کا مظہر اتم ہے‘‘۔ اس کتاب کے علوم کا ماخذ و منبع قرآن حکیم و احادیث رسول کریم ﷺ ہے۔ اس کے اوراد اور وظائف سو سے زائد کتب معتبرہ سے نقل کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب برزخ وجوب امکان کے معیت میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ دائرہ اولیہ امکانیہ کے مرکزاعلیٰ سے اس کتاب کے علوم لیے گئے ہیں۔ چونکہ ذات محمدیﷺ صفت علمیہ واجب الوجود ہے۔ اس واسطے قرآن حکیم نے حضور پرنور ﷺ کے کمالات ذاتیہ اجمالیہ کا اظہاری فرمایا اور یہ کتاب حضور پر نور ﷺ کے کمالات صفاتیہ تفصیلیہ کو طرق متعدد کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ چونکہ ذات محمدی ذات واجب الوجود کے لیے صفت اولیٰ اورممکنات کے لیے ہیولیٰ ہے اجمالاً اور صفات و کمالات محمدیﷺ واجب الوجود کے صفت ظاہر کے لیے مظہر اتم ہیں۔ تفصیلاً، تو شاہنشاہ زمان خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عبد الرحمان صاحب قدس سرہ العزیز نے اپنی کتاب لاجواب میں عقل اول یعنی صفت حقیقیہ ذاتیہ اولیہ محمدیہ ﷺ کے حسن ذاتی و کمال صفاتی کو اجملاً و تفصیلاً بطرز عجیب و ترتیب غریب اس طور پر بیان فرمایا ہے کہ بڑے بڑے علمائے کاملین و عرفائے راسخین حیرت در حیرت ہیں‘‘ اور کتاب ایک امی نے لکھی جو علوم مروجہ سے بابلد تھا۔ جس کا کوئی استاذ نہیں تھا‘‘ ۔[5]

کتبترميم

  • مجموعہ صلوۃٰ الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، جدید طباعت 6 جلدوں میں
  • شرح ابن ماجہ شریف، (غیر مطبوعہ)
  • شرح ترمذی شریف، (غیر مطبوعہ)
  • عطا الرحمان فح اسلام آباء سید الانام، (غیر مطبوعہ)
  • انعام الرحمان فی تصریحات القرآن، (غیر مطبوعہ)
  • لغات الحرف، (غیر مطبوعہ)
  • شرح اسماء حسنہ، ( غیر مطبوعہ)
  • سیاف شرح چہل کاف، (مطبوعہ، منظوم بزبان پنجابی)
  • درود شریف، (مطبوعہ، منظوم بزبان پنجابی) [6]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب مجموعہ صلوات الرسول خواجہ عبد الرحمن چھوہروی صفحہ59جلد اول
  2. مجموعہ صلوات الرسول خواجہ عبد الرحمن چھوہروی صفحہ63جلد اول
  3. مجموعہ صلوات الرسول خواجہ عبد الرحمن چھوہروی صفحہ60جلد اول
  4. مجموعہ صلوات الرسول خواجہ عبد الرحمن چھوہروی صفحہ62جلد اول
  5. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 184 تا 197،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور
  6. افتتاحیہ مجموعہ صلوۃا لرسول، ڈاکٹر محمد مسعود احمد، صفحہ 36، ادارہ مسعودیہ، ناظم آباد، کراچی