محمد جعفر تھانیسری

ہندوستان کے مجاہد آزادی

مولانا محمد جعفر ضلع انبالہ کے قصبے تھانیسر میں 1838 میں پیدا ہوئے ۔دس سال کی عمر میں والد وفات پا گئے ، والد کی وفات کے وقت ایک چھوٹا بھائی چھ مہینے کا تھا۔ والدہ ناخواندہ تھیں اور ان کے پاس کوئی مذہبی تعلیم بھی نہ تھی جس کی وجہ سے ان کی تربیت میں کوئی تعلیم  حاصل نہیں کرسکے اور آزاد پھرتے رہے۔ شعور کی منزل پر پہنچنے پر کچھ عقل آئی تو تعلیم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ قرآن کریم کے تین پارے حفظ کرنے اور سینکڑوں احادیث مبارکہ قلب میں محفوظ  کرلینے والے مولانا صاحب نے عرائض نویسی میں شروع کی اور اس میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ ماہر وکلا بھی ان سے رجوع کرنے لگے ۔

مولوی محمد جعفر تھانیسری نے خود اپنے حالات 16 جون 1862 میں تحریر کیے۔ مولوی صاحب کا یہ نوشتہ حکومت کے ہاتھ لگ گیا۔ اس کا خلاصہ مقدمہ انبالہ میں پیش ہوا۔ ولیم ہنٹر نے خلاصہ اپنی کتاب "Our Indian Muslims" میں شامل کر لیا [1] ۔۔ 11 دسمبر 1863 کو پولیس نے انبالہ میں مولوی محمد جعفر کے گھر پر چھاپہ مارا اور ایک اہم خط قبضے میں لیا ، وارنٹ گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری نہ ڈالی ، اسی دن فرار ہوئے اور اگلے دن علی گڑھ میں قید ہو کر جیل پہنچا دیے گئے۔

سزاترميم

2 مئی 1864 کو عدالت میں جج نے ان الفاظ کے ساتھ سزا سنائی

"مولوی محمد جعفر!

م بہت عقلمند ، ذی علم اور قانون دان ، اپنے شہر کے نمبدار اور رئیس و، تم نے اپنی ساری عقلمندی اور قانون دانی کو سرکار کی مخالفت میں خرچ کیا۔ تمہارے ذریعے سے آدمی اور روپیہ سرکار کے دشمنوں کو جاتا تھا۔ تم نے سوائے انکار بحث کچھ حیلتاَ بھی خیرخواہی سرکار کا دم نہیں بھرا اور باوجود فہمائش کے اس کے ثابت کرانے میں کچھ کوشش نہ کی۔ اس واسطے تم کو پھانسی دی جاوے گی۔ میں تم کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوں گا [2]۔

مولوی جعفر نے کہا:

جان لینا اور دینا خدا کا کام ہے، آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ رب العزت قادر ہے کہ میرے مرنے سے پہلے تم کو ہلاک کر دے۔"

مولوی جعفر کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور جج اگلے چند روز میں دنیا سے چلا گیا جبکہ مولوی جعفر طویل قید کاٹ کر رہا ہوئے اور طبعی موت مرے۔

قید اور جلا وطنیترميم

16 ستمبر 1864 کو ڈپٹی کمشنر انبالہ نے تنسیخ پھانسی کا چیف کورٹ کا حکم سنایا اور بتایا کہ  پھانسی سزائے دائم الحبس بعبور دریائے شور سے بدل دی گئی ہے۔جزائر انڈمان میں جلاوطنی کا تمام عرصہ گزارا اور وہاں کے حالات مفصل اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں۔

فروری 1965 تک انبالہ جیل میں رکھا گیا اور پھر سینٹرل جیل لاہور میں منتقل کر دیا گیا۔ اخیر اکتوبر 1865 ملتان روانہ کر دیا گیا۔ دو روز بعد کوٹلی سے ہوتے ہوئے کراچی جیل پہنچا دیا گیا۔ ایک ہفتہ کراچی میں ٹھہرا کر انہیں بمبئی جیل پہنچا دیا گیا۔ 8 دسمبر 1865 میں بمبئی جیل سے جزائر انڈمان المعروف کالا پانی کی طرف بھیج دیا گیا۔ انڈمان پہنچنے کے چند ماہ بعد کوشش کی کہ اپنی بیوی کو وہیں بلا لیں مگر اس امر میں قانون حائل ہوا۔ ایک نوآمدہ کشمیری عورت سے شادی کر لی۔ اپریل 1868 میں یہ بیگم خالق حقیقی سے جا ملی [3]۔

رہائیترميم

30 دسمبر 1881 کو رہائی کا فرمان آیا اور 22 جنوری 1883 میں حقیقی رہائی عمل میں آئی۔ ہندوستان واپس پہنچنے پر کپتان ٹمپل نے ریاست ارنولی میں نوکر کرا دیا  اور باقی زندگی ایک آزاد شخص کی حیثیت سے گزاری۔

حوالہ جاتترميم

  1. Our Indian Muslims, William Hunter
  2. Selections from Bengal Government records on Wahabi Trials, page 98 ,Moeen Ahmad Khan  
  3. کالا پانی تواریخ عجیب ، ص 88