مُد ایک پیمانہ جووزن میں دو رطل ہوتاہے یا ایک اوسط درجے آدمی کی ہتھیلوں کو بھر ک رہاتھ پھیلانے کی مقدار کے برابر

اصطلاح فقہا میںترميم

اس میں اختلاف ہے جمہور کا مذہب ہے کہ مد عراقی ایک رطل اور ایک تہائی 1/3مراد ہے حنفیہ کے نزدیک مد دو رطل عراقی کا ہوتا ہے، یہی شرعی مد بھی ہے۔ اور ایک رطل چالیس تولہ کا،اور ایک صاع چار مد کا۔ لہذا پاکستانی وزن سے ایک رطل نصف سیر کااورایک مد ایک سیراور صاع چار سیرلیکن مد اور رطل کی مقدار میں اختلاف ہے، [1]

شرعی استعمالترميم

یہ عموماً وضو کے پانی کی مقدار،صدقہ فطر کی مقداراور پیدوار کی زکوۃ کے بیان میں استعمال ہوتا ہے

ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے منقول ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ صاع چار4 مُد اور مُد دو2 رطل اور رطل نصف مَن اور مَن کا وزن دوسوساٹھ260 درہم اور مَن اِستار کے حساب سے چالیس40 استار کا ہوتا ہے اور استار کا وزن دراہم کے حساب سے ساڑھے چھ درہم اور مثاقیل کے حساب سے ساڑھے چار مثقال ہوتا ہے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. اسلامی اوزان صفحہ 28،فاروق اصغر صارم،ادارہ احیاء التحقیق الاسلامی گوجرانوالہ
  2. فتاوی رضویہ جلد 3 امام احمد رضا خان