مساوی مواقع جدید دنیا میں ملکی، تجارتی اور کاروباری ماحول میں وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا ایک تصور ہے۔ اس تصور کی رو سے دنیا بھر میں بغیر کسی بھید بھاؤ، نسلی، مذہبی، رنگ اور اسی طرح کے امتیاز کے لوگوں تعلیم، تربیت اور روزگار جیسے اہم اور دور رس نتائج کے حامل معاملوں میں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس تصور میں کچھ استثنائی صیغے بھی ممکن ہے، جس کی چند مثالیں ذیل میں درج ہیں:

1. عام طور سے ریسیشنسٹ (receptionist) اور ٹیلی کالر کی ملازمتیں عورتوں کو دی جاتی ہیں۔ اس کے پس پردہ یہ تصور ہے کہ عورتوں کا ان جائدادوں پر کام کرنا زیادہ اثر انگیز ہوگا۔ ٹیلی کالنگ میں چوں کہ بازار کاری اور کاروباری تجارت کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے، جسے فون کال پانے والے لوگ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ تاہم یہ تصور ہے کہ عورتیں اگر فون کال کریں تو ان کالوں کو پانے والے لوگ غصے یا ناپسندیدگی کے اظہار میں کم متشدد ہوں گے۔
2. ایسے ادارے جن کا کام راتوں میں دیر تک یا راتوں ہی میں ہوا کرتا ہے کہ، اپنے کاموں کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر مردوں کو پسند کرتے ہیں۔ حالاں کہ جدید طور پر ادارہ جات میں ترقی اور خاندانوں کے بکھراؤ کی وجہ سے اب عورتیں بھی ایسے کاموں کو لینے تامل نہیں کر رہی ہیں۔
3. ایسی ملازمتیں جن میں گھومنے پھرنے کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، وہاں آدمیوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ عورتوں کو، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، اکثر خاندانی ذمے داریوں (family commitments)، طبیعت کی نزاکت اور دیگر وجوہ کی وجہ سے پسند نہیں کیا جاتا ہے۔
4. کچھ ملازمتوں میں حکومتیں سماج کے ایک مخصوص طبقے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کی وجہ اس طبقے کی پسماندگی ہے۔ پھارت میں تعلیمی اور ملازمتی مواقع میں حکومت درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کو ترجیح دیتی ہے۔ اس زمرے کے لوگوں کو کم اہلیتی نشانات، زیادہ عمر وغیرہ کے باوجود مخصوص آبادی کے تناسب میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔
5. کچھ ملازمتوں میں جسمانی حرکت اور صحت بدن کو خاص دخل دیا جاتا ہے۔ اسی ملازمت جس میں دوڑ دھوپ زیادہ ہو، اپاہج لوگوں کو نہیں دی جاتی ہے۔ اس استثنائی کیفیت کو خاص طور پر کھل کر بیان کیا جانا چاہیے اور اس کی توضیح ضروری ہے، بہ طور دیگر یہ صحت بدنی کا امتیاز (ableism) قرار دیا جائے گا اور اسے کئی ملکوں کی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
6. مخصوص حالات کی استتثنائی یا امتیازی کیفیت ہو سکتی ہے۔ مثلًا ریاستہائے متحدہ امریکا میں ایک امریکی نژاد مسیحی شخص کو بیکری میں اس کی لمبی ڈاڑھی کی وجہ سے ملازمت نہیں دی گئی تھی۔ وہ اس کے خلاف عدالت میں اپیل کرنے گیا تھا۔ عدالت نے بیکری کے موقف کو درست قرار دیا اور کہا کہ یہ خدشہ قوی اور قابل یقین ہے کہ اس کے بال کسی بیکری کی شے میں گر سکتے ہیں اور یہ درست نہیں ہوگا۔
7. مذہبی مقامات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے کسی شخص کا فطری طور پر اسی مذہب اور اسی مسلک کا ہونا ضروری ہے۔ اس استثنا کو بھی منطقی طور پر مذہبی لوگ اور عقلیت پسند ملحد لوگوں نے تک تسلیم کیا ہے۔

مساوی مواقع کی کوششیں

ترمیم
  • پاکستان میں یونیسکو کی طرف سے شروع کردہ ایک اسکیم کے تحت ایک موبائل فون کمپنی کے تعاون سے موبائل فون پر خواندگی کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔[1]
  • الاباما یونیورسِٹی میں موجود الاباما نیشنل گارڈسمین کوالاباما کے شُمالی ضلع کے یونائیٹڈ اِسٹیٹس کی ضلعی عدالت کے آخری اور واضح حُکم کو 1963ء میں لاگو کرنا پڑا۔ وہ حُکم یہ تھا کہ الاباما کے دوایسے رہنے والوں کو داخلہ دیا جائے جو صاف طور سے قابِل تھے اور پیدائیشی طور پر نیگرو تھے۔[2]

حوالہ جات

ترمیم