اکبری دروازہ جسے مستی دروازہ بھی کہا جاتا ہے لاہور، پاکستان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اس ک نام مسجدی دروازہ تھا اس دروازہ کے پاس اکبر کی والدہ مریم مکانی کی مسجد ہے بعد مین مستی دروازہ کہلایا [1]

اکبری دروازہ


پناہ میں شمالی جانب یہ دروازہ واقع ہے۔ اس کی بائیں جانب کشمیری دروازہ ہے جبکہ دائیں جانب قلعے کی دیوار ہے۔ شیرانوالہ اور کشمیری دروازے کی طرح یہ بھی سڑک سے بارہ تیرہ فٹ بلند ہے اور یہاں بھی سرکلر گارڈن کی سطح نسبتاً گہری ہے۔ مستی دروازہ کی وجہ تسمیہ جو کنہیا لال نے ’’تاریخ لاہور‘‘ میں بیان کی ہے، وہ یوں ہے۔

’’یہ دروازہ بھی ایک شاہی ملازم کے نام سے مشہور ہے جس کا نام مستی بلوچ تھا اور حفاظت اس کی بادشاہ کے حکم سے اس کے سپرد تھی اور مدت العمر اسی خدمت پر مامور رہا۔ اس کی قدامت اور نیکو خدمتی کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاہی حکم سے یہ دروازہ اسی کے نام سے ہم نام کیا گیا تاکہ اس کا نام تاقیام دروازہ زندہ رہے۔

سید محمد لطیف نے اپنی کتاب ’’ہسٹری آف پنجاب‘‘ میں لکھا ہے کہ مستی دروازہ کا اصل نام مسجدی دروازہ یا مستی دروازہ تھا جو بعدا زاں کثرت استعمال سے مستی دروازہ مشہور ہو گیا۔ دروازے کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ یہ ایک تو قلعہ کے بالکل نزدیک واقع ہے، دوم اس دروازے کے اندر شہنشاہ اکبر کی والدہ مریم زمانی نے 1614ء میں بیگم شاہی مسجد تعمیر کرائی جو اندرونی نقش و نگار اور خوبصورتی کی بدولت بہت مشہور ہوئی۔ دہلی دروازے سے شاہی خاندان ودیگر امرائے سلطنت قلعہ میں داخل ہونے کے لیے بیگم شاہی مسجد کے پاس سے گزرتے۔

بیگم شاہی مسجد آج جس بازار میں واقع ہے اس کا نام موتی بازار ہے مگر آج وہاں موتیوں و مالا کی بجائے جوتا سازی کا کام ہوتا ہے۔ چونا منڈی کی حویلیاں جو سکھوں کے عہد کی یادگار ہیں، جس تکونی رقبے میں واقع ہیں اس کی ایک سمت میں دراصل یہی موتی بازار ہے۔ بیگم شاہی چوک سے اگر چونا منڈی چوک کی طرف آئیں تو یکدم بہت چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے۔ یہاں زیادہ تر عمارات نئی تعمیر ہو گئی ہیں، عہد رفتہ کی یادگاریں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ مستی دروازے کی اصل عمارت بقول کنہیا لال ہندی کے بہ حکام انگریز مسمار کر دی گئی اور اس کی جگہ ایک مختصر پھاٹک بنا دیا گیا تھا۔ آج وہاں پھاٹک کے آثار بھی موجود نہیں ہیں۔ چونا منڈی حویلی میں بھی نواز شریف کے عہد حکومت میں فاطمہ جناح گرلز کالج بنا دیا گیا ہے۔

بیرون مستی دروازہ پانچ منزلوں پر مشتمل ایک عمارت تعمیر کی گئی ہے جس کی بالائی منازل پر دوکانات ہیں اور یہاں جوتوں کی بہت بڑی منڈی ہے۔ بیرون مستی دروازہ واسا کا ٹیوب ویل ہے، ایمنسٹی گرلز پرائمری اسکول کی عمارت ہے۔ بابا حسین شاہ قادری کا مزار ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. نقوش لاہور نمبر،صفحہ 658،محمد طفیل، نقوش پریس لاہور

بیرونی روابط

ترمیم