معقل بن سنان بن مظہر اشجعی صحابی تھے۔فتح مکہ میں موجود تھے۔[1] بہت پرہیزگار اور فاضل تھے۔ جنگ حنین میں اپنی قوم کا پرچم ان کے ہاتھ میں تھا۔[2] بہت خوبصورت تھے۔

کنیت اور نسبترميم

معقل بن سنان الأشجعی کا نسب مَعْقِلُ بن سِنَان بن مُظَهّر بن عَرَكِی بن فِتیان بن سُبَیع بن بكر بن أَشجع بن رَیث بن غَطَفَان الأَشجعی ہے اور کنیت أَبا عبد الرحمن تھی و: أَبو محمد، وأَبو زید، وأَبو سنان بھی کنیت بیان ہوئی ہیں۔

شہادتترميم

ابن اسحاق نے کہا ہے کہ مسلم بن عقبہ مسرف کے حکم سے نوفل بن مساحق کے ہاتھوں ذی الحجہ 63ھ میں مدینہ منورہ میں واقعۂ حرہ کے بعد مظلومانہ شہید کئے گئے۔[3]

ان کے ساتھ دیگر شہید ہونے والے اہم افراد یہ تھے فضل بن عباس بن ربیعہ ابن الحارث بن عبد المطلب، و ابو بكر بن عبد اللہ بن جعفر بن أَبي طالب و ابو بكر بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، ويعقوب بن طلحة بن عبيد اللہ، وعبد الله بن زيد بن عاصم، وغيرہ، اہل مدينہ نے مسلم بن عقبة کو اس المناک اور وحشیانہ واقعہ کے بعد مسرف (زیادہ روی کرنے والا۔ حد سے تجاوز کرنے والا) کا لقب دیا چونکہ اس نے تمام حدیں پھلاند دی تھیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. أَخرجه ابن عبد البر، وابن منده، وأبو نعیم
  2. مغازی میں واقدی نے لکھا ہے۔
  3. الاصابہ فی تمییز الصحابہ

سانچےترميم