مرکزی مینیو کھولیں
نبی ملاکی۔

ملاکی یا ملاخی (عبرانی میں:מַלְאָכִי، یونانی میں :Μαλαχίας، جس کے معنی و مفہوم مختلف حوالوں ، زاویوں اور عقیدوں کی رو سے «خدا تک پہنچانے میں مددگار یا بسا اوقات خدا کی مدد پہنچانے میں مددگار اور کہیں خدا کو پہنچانے والا») کا ذکر عہد عتیق، عبرانی تنک میں بیان کیے گئے پیغمبروں کے ضمن میں آتا ہے۔ اور انہیں انبیائے صغری میں سے گردانا جاتا ہے۔[1] ملاکی کا تعلق قبیلہ زبولون سے بتایا جاتا ہے اور زمانہ پیدائش یہودی قوم کے سائرس اعظم کی دلائی آزادی یا اس کی دی آزادی (سائرس اعظم کے عہد میں یہودیوں کو اسرائیل جو ہخامنشی سلطنت کا حصہ تھا واپس جانے اور اپنے معابد دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی) سے بعد کا بیان کیا گیا ہے۔ ملاکی نحمیاہ[2] اور عزرا[3] کے ہم عصر تھے۔ اور ان کا دور نبوت حجی اور زکریاہ کے بعد کا ہے۔[4] ملاکی کے عہد میں بنی اسرائیل عشر اور ہدیہ جات (برائے ہیکل) ادا نہیں کرتے تھے۔ وعدہ سبت کو بھلا چکے تھے اور تقدیس سبت سے نا آشنا ہو چکے تھے۔ یہودی مرد غیر یہودی عورتوں سے شادیاں کرنے لگے تھے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں میں رشوت خوری عام ہو چکی تھی۔[5] ملاکی نے یہودیوں کو غیر یہودی عورتوں سے شادیاں کرنے سے گریز کرنے کو کہا اور انہیں حرمت سبت اور باقی تمام انحراف کردہ یا فراموش شدہ قوانین و شعائر شریعت موسوی پر عمل کرنے کی ترغیب و ہدایت دی۔[6] یہودی روایات میں آتا ہے کہ ملاکی عہد نحمیاہ کے کاہنوں میں سے تھے اور وہ انہیں یروشلیم کی تعمیر نو کرنے والا تسلیم کرتے ہیں۔[7] یہودی ملاکی کی کتاب کو وحی الہی قرار دیتے ہیں۔[8] ملاکی کی کتاب ایک طویل نظم پر مشتمل ہے۔ ملاکی کا انتقال یروشلیم میں ہوا۔ ملاکی کو بہت سے فلسفی، علما اور مفسرین عہد عتیق کا آخری پیغمبر قرار دیتے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ملاکی ۱: ۱
  2. ملاکی ۲: ۱۱؛ نحمیاہ ۱۳: ۲۱
  3. ملاکی ۳: ۱۴؛ عزرا ۸: ۲۱
  4. ملاکی ۱: ۱۰؛ ۳: ۱۰
  5. ملاکی ۳: ۸؛ نحمیاہ ۱۳: ۱۰؛ ۱۰: ۱۰
  6. ملاکی ۱: ۶؛ ۲: ۱۴؛ ۳: ۱۱
  7. نحمیاہ ۴: ۸
  8. ملاکی ۱: ۳