خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام کے نام سے سرگرم ہے اور حکومت کے متوازی اپنی حکومت قائم کیے ہو‎ئے ہے اس گروپ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہے کہ اس گروپ کے کمانڈر منگل باغ کی دھمکی پر حکومت کے 500 خاصہ داروں نے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے انکار کر دیا [3]۔ حکومت پاکستان نے 27 ستبمر کو منگل باغ اور اس کے چار ساتھیوں کے سر کی قمیت مقرر کردی