میر شیر علی افسوس

فورٹ ولیم کالج کے مشہور مصنفین میں میر شیر علی افسوس کا نام بھی شامل ہے۔ میر شیر علی افسوس کے آباو اجداد ایران سے آکر ہندوستان میں آباد ہوئے۔ افسوس دہلی 1737ء میں پیدا ہوئے۔ لیکن دہلی کی تباہی کے بعد افسوس لکھنؤ چلے گئے۔ کرنل اسکاٹ کی بدولت فورٹ ولیم کالج کے منشیوں میں بھر تی ہوئے 1809ء کلکتہ میں ان کا انتقال ہوا۔
فورٹ ولیم کالج کے زمانہ میں میر شیر علی افسوس نے دو کتابیں تصنیف کیں۔ ( باغ اردو، آرائش محفل) ”باغ اردوشیخ سعدی کی گلستان کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں سادگی کی کمی ہے اس میں عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال زیادہ ہے۔ افسوس نے فارسی کے محاورے اور اسلوب کا موزوں اردو بدل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس لیے کتاب میں نہ سلاست پیداہوئی ہے اور نہ ہی روانی اور بے تکلفی۔
اُن کی دوسر ی کتاب ”آرائش محفل“ ہے۔ یہ کتاب سبحان رائے بٹالوی کی کتاب ”خلاصتہ التواریخ“ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ تاریخ کی کتاب ہونے کے باجود اپنے سادہ اور پروقار اسلوب کی بناءپر ہمارے دور کے ادب کی کتابوں میں شامل ہونے لگی ہے۔ عبار ت میں سلاست اورروانی اور بے تکلفی اس کتاب کا خاصہ ہے۔