نانک سنگھ پنجابی زبان کے بہترین ناول نگار اور ادیب تھے۔ 1911ء میں چھپنے والا ان کا پہلا مضمون سی حرفی ہنس راج، بہت مقبول ہوا۔ 1922ء کو گورو کا باغ مورچے کے وقت وہ جیل گئے تو منشی پریم چند سے متاثر ہو کر جیل میں ہی انھوں نے اپنا پہلا ناول ادھ کھڑی کلی لکھا، جو بعد میں ادھ کھڑیا پھلّ کے نام سے چھپا۔ گلپ (کہانی اور ناول) کو اپنی ادبی زندگی کی مرکزی اصناف کے طور پر اپنانے والے سنگھ نے ناول کے علاوہ کہانیاں، سوانح عمری، ترجمے، مضامین اور ڈراموں سمیت 50 سے زائد کتابیں لکھیں۔

ابتدائی زندگی

ترمیم

سنگھ کا جنم 4 جولائی 1897ء کو گاؤں پنڈ چکّ حمید، ضلع جہلم (اس وقت پاکستان) میں سری بہادر چند سوری کے گھر ، بطور ہنس راج، ہوا۔ وہ پشاور کے گردوارے کے گرنتھی باغ سنگھ کی توجہ اور راہنمائی سے ہنس راج سے نانک سنگھ بن گئے۔ پانچویں جماعت گاؤں کے ہی اسکول سے پاس کی۔ چھٹی جماعت میں تھے تو باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ، اس لیے پڑھائی ادھوری چھوڑ کر روزی روٹی کمانے لگے۔ انھوں نے حلوائی کی دکان پر برتن مانجھے اور میلوں میں قلفیاں فروخت کیں۔

انھوں نے 13 سال کی چھوٹی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ 13 اپریل 1919 کی وساکھی کے دن امرتسر کے جلیانوالا باغ کے حادثے کو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس حادثے کا ان کے دل و دماغ پر بہت اثر ہوا کیونکہ ان کے دو دوست بھی اس حادثے میں مارے گئے تھے۔ل انھوں نے بریٹیش حکومت کے ظلم کو ننگا کرتی ایک طویل نظم خونی وساکھی لکھی۔ حکومت نے اس پر پابندی لگا دی اور ضبط کر لی۔

1921 میں ان کی شادی راج کور کے ساتھ ہوئی۔

1911 میں ان کی پہلی تحریر ، سی حرفی ہنس راج، شائع ہوئی۔ کچھ مذہبی گیت بھی لکھے جو ستگور مہما کے نام سے چھپے ۔ 1922 میں گورو کا باغ مورچے کے وقت جیل گئے۔ اس وقت انھوں نے اپنی دوسری کتاب زخمی دل لکھی جو 1923 میں چھپی اور جس پر محض دو ہفتوں بعد پابندی لگا دی گئی۔ جیل میں ہی انھوں نے منشی پریم چند کے ناول پڑھے، جن سے متاثر ہو کے انھوں نے جیل میں ہی اپنا پہلا ناول ادھ کھڑی کلی لکھا، جو بعد میں ادھ کھڑیا پھلّ کے نام سے چھپا۔ اڑتیس ناول، گیتوں کے چار مجموعے، سوانح عمریاں ، ترجمے اور ڈرامے بھی لکھے۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے سماجی برائییاں، معاشی ناہمواری ، سماجی استحصال، دھوکا، بدچلنی، وڈیرہ شاہی اور فرقہ بندی پر لکھا۔ ۔ اپنی کہانیاں انھوں نے سماجی جیون میں سے ہی لیں۔ ۔ ان کی شاہکار تحریروں میں ، ادھ کھڑیا پھلّ، متریئی ماں، خون دے سوہلے، کال چکر، اگّ دی کھیڈ، انسیتے زخم، پریم سنگیت، مجھدھار، چٹا لہو، چترکار، غریب دی دنیا، پوتر پاپی، پیار دی دنیا، شول لائینز، آستک ناستک، آدم خور، جیون سنگرام، سنگم، پجاری، ٹٹی وینا، کٹی پتنگ، گنگا جلی وچ شراب، اک میان دو تلواراں، کوئی ہریا بوٹ رہیو، گگن دمامہ باجیو، پتھر کانبا (ترجمہ)، پتجھڑ دے پنچھی (ترجمہ)، میری جیون کہانی کے نام شامل ہیں۔

ایوارڈ

ترمیم

تاریخی ناول اک میان دو تلواراں کو 1926ء میں ساہت اکادمی انعام ملا۔ 1986ء میں پوتر پاپی سے ماخوذ ایک ہندی فلم بھی بن چکی ہے ۔

حوالہ جات

ترمیم

https://pnb.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%86%DA%A9_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE?wprov=sfti1