نسوانی ادب (انگریزی: Women's writing) ایک علمی مطالعے کا شعبہ ہے جس کا یہ مفروضہ یہ ہے کہ ادبی مطالعہ جو خواتین کے تجربوں پر مبنی ہے، تاریخی طور ان کی جنس کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے مطالعہ کا ایک مخصوص شعبہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ "خواتین کے متون ان حالات اور صورت حال سے رو نما ہوتے ہیں جو مصنف مردوں کی تیار کردہ سے مختلف ہوتے ہیں۔ " [1]

اس حقیقت کو مد نظر رکھ کرکہ عورت اپنے جسم اور جسم کی بدلتی حالتوں،ماں بننے کی صلاحیتوں اور اپنی جنس کی بنا پر مرد سے مختلف ہے اور اس پر دریدا کا binary opposites ٰ یعنی مرد / عورت کا تصور منطبق ہوتاہے،جس کی رو سے عورت جنسی،جسمانی اور نفسیاتی طور پر مرد سے الگ ہے۔ فن کارانہ سطح پر اپنے غالب مخالف جنس کی زبان میں جو بقول “Oppressor’s Language” Rich ہے اپنے نازک، لطیف (Subtle) اور گریزاں محسوسات کو پیش کرنے کی سعی کرتی ہے اور حتیٰ المقدور مرد ادیبوں کے مقابلے میں اپنی تحریروں میں زبان،اسلوب،لب و لہجہ،رویوں، کردار،صنف اور تجربوں کے تعلق سے فرق روا رکھتی ہے۔وہ مرد کے مقابلے میں عورت کے درجے،طرز زندگی،مذاق، مشاغل، رنگ، نسل اور خواہشات کو بھی نسائی رنگ عطا کرتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک منفرد تانیثی ادبی کلچرکو صورت پزیر کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ وہ بقول مشہور تانیثی نقاد شووالٹر ’’ حیات،لسانیات، تحلیل نفسی اور تمدن‘‘ چار (Models of Difference) کو نمایاں کر رہی ہے۔ اس طرح سے تانیثی ادب میں لسانی جمالیات اور تخلیقیت کی شناخت دائرہ امکاں میں آتی ہے۔ مجموی طور پر خواتین قلم کاروں کی شخصیت کی مزاحمت، کشمکش، بے بسی کے ساتھ ساتھ خواب بینی، مثالیت، رومانیت، عافیت پسندی اور جنسی آگہی کے علاوہ باغیانہ رد عمل اور مفاہمانہ رویے کے تضادات پر محیط ہو جاتی ہے۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Blain, Virginia, Isobel Grundy, and Patricia Clements, eds. The Feminist Companion to Literature in English. New Haven and London: Yale UP, 1990. viii-ix.
  2. عورتوں کا ادب:کچھ پرانے اور کچھ نئے سوال