نظریہ ارتقا کے مخالف سائنسدان

جو سائنسدان نظریہ ارتقاء کا رد کرتے ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں[1]

  1. ایک اطالوی سائنسدان روزا کہتا ہے کہ گذشتہ ساٹھ سال کے تجربات نظریہ ڈارون کو باطل قرار دے چکے ہیں.[2]
  2. ڈی وریز (De Viries) ارتقاء کو باطل قرار دیتا ہے وہ اس کے بجائے انتقال نوع (Mutation) کا قائل ہے جسے آج کل فجائی ارتقاء (Emergence Evelution)کا نام دیا جاتا ہے اور یہ نظریہ علت و معلول کی کڑیاں ملانے سے آزاد ہے. [3]
  3. ولاس (Wallace) عام ارتقاء کا تو قائل ہے لیکن وہ انسان سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے. [4]
  4. فرحو کہتا ہے کہ انسان اور بندر میں بہت فرق ہے اور یہ کہنا لغو ہے کہ انسان بندر کی اولاد ہے. [5]
  5. میفرٹ کہتا ہے کہ ڈارون کے مذہب کی تائید ناممکن ہے اور اس کی رائے بچوں کی باتوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی. [6]
  6. آغا سیز کہتا ہے کہ ڈارون کا مذہب سائنسی لحاظ سے بالکل غلط اور بے اصل ہے اور اس قسم کی باتوں کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا. [7]
  7. ہکسلے (Huxley)کہتا ہے کہ جو دلائل ارتقاء کے لیے دیئے جاتے ہیں ان سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہوتی کہ نباتات یا حیوانات کی کوئی نوع کبھی طبعی انتخاب سے پیدا ہوئی ہو. [8]
  8. ٹنڈل کہتا ہے کہ نظریہ ڈارون قطعاً ناقابل التفات ہے کیونکہ جن مقدمات پر اس نظریہ کی بنیاد ہے وہ قابل تسلیم ہی نہیں ہیں[9]
  9. دورِ جدید کے ایک سائنسدان دُواں گِش (Duane Gish) کے بقول اِرتقاء (اِنسان کا جانور کی ترقی یافتہ قسم ہونا) محض ایک فلسفیانہ خیال ہے، جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے. [10]
  10. جیریمی رِفکن (Jeremy Rifkin) نے اپنے مقالات میں اِس حقیقت کا اِنکشاف کیا ہے کہ علمِ حیاتیات اور علمِ حیوانات کے بہت سے تسلیم شدہ محققین مثلاً سی ایچ واڈنگٹن (C. H. Waddington)، پائرے پال گریس (Pierre-Paul Grasse) اور سٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gold) نے مفروضۂ اِرتقاء کے حامی نیم خواندہ سائنسدانوں کے جھوٹ کو طشت اَز بام کر دیا ہے. [11]
  11. پروفیسر گولڈ سمتھ (Prof. Goldschmidt) اور پروفیسر میکبتھ (Prof. Macbeth) نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ مفروضۂ اِرتقاء کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے. اِس نظریئے کے پس منظر میں یہ حقیقت کارفرما ہے کہ نیم سائنسدانوں نے خود ساختہ سائنس کو اِختیار کیا ہے. مفروضۂ اِرتقاء کے حق میں چھپوائی گئی بہت سی تصاویر بھی جعلی اور مَن گھڑت ہیں. [12]

حوالہ جاتترميم

  1. "مغربی مفکرین کے تبصرے". 
  2. اسلام اور نظریہ ارتقاء. 
  3. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 59. 
  4. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 61. 
  5. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 61. 
  6. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 61. 
  7. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 62. 
  8. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 63. 
  9. اسلام اور نظریہ ارتقاء. صفحہ 63. 
  10. تخلیق کائنات اور جدید سائنس از ڈاکٹر طاہر القادری. 
  11. تخلیق کائنات اور جدید سائنس. ڈاکٹر طاہر القادری. 
  12. ڈاکٹر طاہر القادری. تخلیق کائنات اور جدید سائنس.