وہ نماز جو مردے (مرجانے والا) کی دعائے مغفرت کے لیے پڑھی جاتی اس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ صرف قیام و دعا ہے۔مردے کا تابوت۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ میت کو قبلہ رو لٹا دیا جائے۔ آنکھیں بند کر دی جائیں۔ نیم گرم پانی سے غسل دیے کر اور کفن پہنایا جاتا ہے۔ ’’شہیدوں کو غسل نہیں دیا جاتااور نہ کفن پہنایا جاتا ہے۔ انھیں خون آلودہ کپڑوں میں دفن کر دیا جاتا ہے‘‘ لاش کو چار پائی پر لٹا دیا جاتا ہے اور میت کو کاندھوں پر رکھ کر آہستہ آہستہ جنازے کو لے جاتے ہیں۔ کسی پاکیزہ مقام پر نمازہ جنازه پڑھائی جاتی ہے۔ اس نماز میں سجدہ نہیں ہوتا۔ صرف چار تکبیریں کہی جاتی ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد ثنا، دوسری کے بعد درود شریف، تیسری کے بعد دعا پڑھتے ہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیر دیتے ہیں۔ نماز کے بعد میت کو قبلہ رو کرکے قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ جنازے میں شرکت فرض کفایہ ہے اور نماز جنازہ بھی فرض کفایہ ہے۔

نماز جنازہ کے ارکانترميم

  1. قدرت کے ہوتے ہوئے قیام
  2. چار تکبیریں
  3. فاتحہ کی قراءت
  4. نبی ﷺ پر درود بھیجنا
  5. میّت کے لیے دعا
  6. ترتیب قائم رکھنا
  7. سلام پھیرنا

نماز جنازہ کا طریقہترميم

اگر میّت مرد ہو تو امام میّت کے درمیان میں کھڑا ہو اور مقتدی امام کے پیچھے باقی نمازوں کی طرح کھڑے ہوں، پھر چار تکبیریں کہیں ان کی تفصیل آنیوالی ہے۔ :

  1. پہلے تکبیر کے بعد ثنإ پڑھیں
  2. دوسری کے بعد درود شریف پڑھیں۔
  3. تیسری تکبیر کہے اور اس کے دعا پڑھیں

(نابالغ بچے اور بچی کے لیے الگ دعا ہے احادیث مبارکہ میں وارد ہے)

  1. چوتھی تکبیر کہہ تھوڑی خاموشی کے بعد دونوں اطراف میں ہاتھ کھول کر سلام پھیر دیں
  1. نمازہ جنازہ کی اداٸیگی کے بعد صفیں توڑ کر میت کی مغفرت کےلیے دعاٸے مغفرت کرنا مستحب ہے

نماز جنازہ کی سنتیںترميم

  1. قراءت سے پہلے استغفار کرنا
  2. اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا مانگنا
  3. زیادہ صفیں بنانا، تین یا اس سے زیادہ
  4. آہستہ قراءت کرنا
  5. میّت کو اُٹھانا، اس کے ساتھ چلنا اور اس کو دفن کرنا

جب نماز جنازہ ختم ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ جلدی سے میّت کو اس کی قبر کی طرف اٹھایا جائے۔اور پیچھے چلنے والوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ بھی جنازہ اٹھانے میں شریک ہوں,اور میّت کو قبر میں اتارنے والے کے لیے مسنون ہے کہ یہ پڑھے " بسم الله، وعلى ملة رسول الله ", اس کو لحد میں دائیں پہلو پر لٹائے اور اس کا چہرہ قبلہ رخ کر دے پھر کفن کی گرہ کھول دے۔پھر مٹی کے ساتھ قبر کے سوراخ بند کر دے,دفن میں حاضر ہونے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں تین دفعہ مٹی لے اور قبر پر ڈال دے پھر قبر کو مٹی کے ساتھ ڈھانپ دیا جائے اور قبر کو زمین سے ایک بالشت کی مقداربلند کیا جائے اور اس پر کنکریاں اور پتھر رکھ دیے جائیں اور پانی چھڑک دیا جائے اور قبر کے کسی ایک طرف پتھر رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے یا دونوں طرف تاکہ قبر کا پتہ چل سکے۔

تعزیّت کرناترميم

میت کے اہل و عیال چونکہ غم زدہ ہوتے ہیں ان کے پاس تعزیت کے لیے جانا مستحب ہے تاکہ ان کے غم میں شریک ہو کر ان کے غم کو ہلکا کیا جاسکے اور انکو صبر کی تلقین کی جائے, تعزیت کسی بھی کلمات سے کی جا سکتی ہے جیسا کہ وہ یہ کہے کہ اللہ ہی کا تھا جو اس نے لے لیا اور اللہ ہی کے لیےہے جو وہ عنایت کرتا ہے۔ " اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ پس آپ صبر کریں اور اپنا احتساب کریں "۔ [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]اور اگر کہے " أعظم الله أجرك، وأحسن عزاءك وغفر لميتك "وغیرہ۔

جنازوں کے ساتھ عورتوں کا نکلناترميم

جنازوں کےساتھ عورتوں کا نکلنا غیر شرعی امر ہے کیونکہ أُمِّ عَطِيَّةَ -رضي الله عنها سے مروی ہے فرماتی ہیں " ہمیں جنازوں کے پیچھے چلنے سے منع کیا گیا ہے "

قبروں کی زیارت کرناترميم

مُردوں کے لیے دعا اور نصیحت کی غرض سے قبروں کی زیارت کرنا مسنون ہے آپ ﷺ نے فرمایا " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ پس تم زیارت کرو بے شک وہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی ",اور قبر کی زیارت کے وقت یہ دعا منقولہ پڑھے " السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإِنا إِن شاء الله بكم لاحقون " [1] یا " السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين، وإِنا إِن شاء الله بكم للاحقون " [2] " أسأل الله لنا ولكم العافية "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے] اگر مُردوں کےلیے اپنے الفاظ میں مغفرت اور رحمت کی دعا کردی تو یہ بھی کوئی حرج نہیں ہے


مزید دیکھیےترميم

  1. [اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیاہے]
  2. [ اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیاہے]