نور العرفان فی حاشیہ قرآن

تفسیر نور العرفان دراصل حاشیہ ہے ترجمہ: امام احمد رضا خان بریلوی کا جس کے مفسر احمد یار خاں نعیمی بدایونی ہیں۔یہ حاشیہ مفتی صاحب نے دراصل اپنے پیر و مرشد صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے حاشیہ قرآن خزائن العرفان کے بعد لکھا ہے اور اپنے اس حاشیے میں مفتی صاحب نے جا بجا خزائن العرفان کے حوالے بھی دیے ہیں، ایک تفسیر نعیمی۔ جو بہت طویل اور مفصل ہے۔جو کہ دراصل خزائن العرفان کی ہی ایک طرح سے شرح ہے جسے مفتی صاحب نے سب سے بہترین تفسیر قرار دیا دوسری مذکورہ تفسیر نور العرفان۔ پہلی تفسیر میں مفتی صاحب کا اپنا لفظی ترجمہ ہے جبکہ مذکورہ تفسیر میں ترجمہ کنز الایمان لگایا گیا ہے۔ یہ مختصر تفسیری حواشی ہیں۔ جن میں آیات قرآنیہ کی مختصر تشریح مع چیدہ چیدہ نکات و شان نزول اور عقائد مخصوصہ کا بیان کیا گیا ہے۔خزائن العرفان اور نور العرفان میں تقابل کیا جائے تو اختصار اور جامعیت خزائن العرفان میں زیادہ ہے،لیکن اگر عقائد کے حوالے سے مواد کی بات کی جائے تو مفتی صاحب کی نور العرفان میں عقائد پر تفصیلی مواد ملے گا۔ [1]

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر نور العرفان ناشر: نعیمی کتب خانہ گجرات