مرکزی مینیو کھولیں

پارکیز کا طریقہ (Parkes process) صنعتی پیمانے پر استعمال ہونے والا وہ طریقہ ہے جس کی مدد سے سیسے سے چاندی الگ کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ الیکزنڈر پارکیس نے 1850 میں پیٹنٹ کروایا تھا۔

سُرمہ جو سیسے کی کچ دھات ہوتا ہے۔ قدرتی سرمہ کے پتھر (Galena) سے بجلی با آسانی گزر سکتی ہے۔[1]

سیسہ (Lead) ان قدیم ترین دھاتوں میں سے ہے جنہیں انسان نے دریافت کر لیا تھا۔ دنیا میں پائے جانے والے سیسے کے بیشتر ذخائر میں تھوڑی بہت چاندی بھی سیسے کے ساتھ ملی ہوئی حالت میں موجود ہوتی ہے۔ اس چاندی کو سیسے سے الگ کرنے کے لیے اس میں زنک ملا کر گرم کرتے ہیں۔ زنک میں دو ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو چاندی کی علیحدگی کا سبب بنتی ہیں۔ وہ یہ ہیں۔

  • پگھلی ہوئی حالت میں بھی زنک اور سیسہ اسی طرح الگ الگ رہتے ہیں جس طرح تیل اور پانی
  • پگھلے ہوئے زنک میں چاندی 3000 گنا زیادہ حل ہوتی ہے بہ نسبت پگھلے ہوئے سیسے کے
سیسے اور زنک کی فیز ڈایا گرام

سیسہ 327.5 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتا ہے اور زنک 419.5 ڈگری سینٹی گریڈ پر۔

سیسے سے چاندی الگ کرنے کے لیے خام سیسے کو 480 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے اور پھر اس پگھلے ہوئے سیسے میں دو فیصد جست (زنک) ملایا جاتا ہے۔ سیسے میں موجود چاندی کی بڑی مقدار زنک میں حل ہو جاتی ہے اور زنک ہلکا ہونے کی وجہ سے پگھلے ہوئے سیسے پر تیرتا ہے۔ جب اسے ٹھنڈا کرتے ہیں تو لگ بھگ 420 ڈگری سینٹی گریڈ پر زنک crust کی شکل میں جم جاتا ہے اور با آسانی الگ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اس زنک کو گرم کیا جاتا ہے جس سے سارے کا سارا زنک بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے اور چاندی باقی رہ جاتی ہے۔
اگر سیسے میں سونا بھی موجود ہو تو یہ بھی اسی طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

زنک اور سیسہ اگرچہ پگھلی ہوئی حالت میں بھی ایک دوسرے میں حل نہیں ہوتے لیکن اگر درجہ حرارت بڑھایا جائے تو ان کی ایک دوسرے میں حل پذیری بڑھتی چلی جاتی ہے اور 940 ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ مکمل طور پر ایک دوسرے میں حل ہو جاتے ہیں۔ اپنے نقطہ پگھلاو کے نزدیک پگھلے ہوئے سیسے میں زنک کی مقدار صرف 1.6 فیصد ہوتی ہے جبکہ پگھلے ہوئے زنک میں سیسے کی مقدار صرف 1.2 فیصد ہوتی ہے۔[2]

دیگر غیر حل پزیر دھاتیںترميم

زنک اور سیسہ کی طرح کچھ اور بھی دھاتی جوڑے ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں بہت ہی کم حل ہو سکتے ہیں مثلاً

مزید دیکھیےترميم

یو ٹیوب کی ویڈیوترميم

حوالہ جاتترميم

Lead and Zinc: Threats and Opportunities in the Years Ahead By Nnamdi Anyadike