پری

ایک ما فوق الفطرت تصوراتی مخلوق

قوائے غیر فطری کی مالک پردار خوب صورت عورتیں۔ زمانہ ماضی میں لوگ پریوں کے وجود پر یقین رکھتے تھے۔ اور اب بھی جاہل لوگ ان کی طرف طرح طرح کے واقعات منسوب کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے عقائد کے مطابق پریاں دو قسم کی ہیں۔ نیک اور بد اور ان دونوں طاقتوں میں غلبہ اور اقتدار کی کش مکش جاری رہتی ہے۔ اس کش مکش کا اثر انسانی افعال، کردار، حرکات اور ارادوں پر بھی ہوتا ہے۔ قدیم انگریزی ادب میں اس قسم کی پریوں کی ایک الگ دنیا نظر آتی ہے۔ ان میں سے کئی کو مضامین اور ڈراموں کے کرداروں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شیکپئیر کا ڈراما’’مڈ سمر نائٹ کوئین ‘‘ پریوں کی ایک کہانی ہے۔ اسی طرح ایڈمنڈسپنسر کی فیری کوئین۔ بھی پریوں ہی کا اکھاڑا ہے۔ مشرقی ادب میں بھی جنوں اور پریوں کو مختلف کہانیوں میں جگہ دی گئی ہے۔ الف لیلیٰ میں تو ان کے مکمل معاشرے کی ایک لفظی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ ہندی پاکستانی ادب میں اندر کا اکھاڑا اوراس کی پریاں ایک علاحدہ نظام کی یاد دلاتی ہیں۔ کوہ قاف واقع آرمینیا پریوں کی روایتی جنم بھومی ہے-
انسانی تخیل کے مطابق پری تما م نسوانی خصوصیات اپنے اندر کمال درجے میں رکھتی ہے جیسے کہ قصے، کہانیوں کے بھوت بے حدطاقت ور ہوتے ہیں-لیکن بہرحال یہ سب تخیلات ہی ہیں جو انسانی دماغ نے تراش رکھے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے-

پری

حوالہ جات

ترمیم