چغتائی لیب پاکستان کی تیسری بڑی طبی تشخیصی لیبارٹریز کا پرائیویٹ نیٹ ورک ہے اسے آغا خان اور شوکت خانم کے بعد ترجیح دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اختر سہیل چغتائی نے اسے لاہور لیب کے نام سے 1983ء میں بنایا تھا۔ بعد میں اس کا نام چغتائی لاہور لیب میں تبدیل کر دیا اور 2015ء میں صرف چغتائی لیب رکھ دیا گیا۔[1]

چغتائی فاؤنڈیشن نیٹ ورک ترمیم

چغتائی لیبارٹریز کا ایک وسیع نیٹ ورک اور آن لائن سہولیات پاکستان کے متعدد بڑے شہروں میں موجود ہے۔ چغتائی لیب کے زیرِ اہتمام سینٹرل پارک لاہور میں ایک چغتائی پبلک لائبریری بھی بنا دی گئی ہے جس کے ذیلی مطالعاتی کمرے پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔[2] اس کے علاوہ دارالمعمرین اور مستحق بچوں کے لیے میڈیکل کیمپ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔[3]

حوالہ جات ترمیم

  1. "Chughtai Lab's Journey - History Timeline of Chughtai Lab"۔ 12 مئی 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2017 
  2. http://nation.com.pk/newspaper-picks/25-Sep-2016/medical-laboratories-fleecing-people
  3. Chughtai Foundation seeks to serve humanity