ڈولی گلیریا

ہندوستانی گلوکارا

ڈولی گلیریا (انگریزی: Dolly Guleria) ایک پنجابی لوک گلوکارہ ہیں ، جو بمبئی میں بیساکھی میں 13 اپریل 1949 کی رات پیدا ہوئیں وہ پروفیسر جوگندرا سنگھ اور پنجابی کے افسانوی گلوکارہ سریندر کور کی بیٹی ہیں ، جو 'پنجاب کی بلبل' کے نام سے مشہور ہیں.[1]

ڈولی گلیریا
DollyGuleria.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اپریل 1949 (73 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ سریندر کور  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کیریئرترميم

گلیریا میڈیکل کی طالب علم ہونے کے ناطے، ڈاکٹر بننے کی خواہش مند تھی۔ 1970 میں اس نے آرمی آفیسر کرنل ایس ایس گلیریا سے شادی کی[2] اور اس کی ایک بیٹی، سنائینی اور دو بیٹے، دلپریت سنگھ اور امانپریت سنگھ ہیں۔ مامتا کی حثیت سے زِندگی گُزارنے کے بعد، انھیں اپنے شوہر کی طرف سے حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ کلاسیکی موسیقی کی تربیت جاری رکھیں، تب اس کو 'پٹیالہ گھرانہ' کے خان صاحب عبدالرحمن خان کی شاگرد بننے کا موقع ملا۔ جس نے انکو کلاسیکی موسیقی اور لوک گائیکی میں مخصوص اہلیت کے ساتھ تربیت دی.[3]

وہ بچپن سے ہی موسیکی کی طرف جذباتی طور پر مائل تھیں، اپنے استاد کی قابل رہنمائی کے تحت، اس نے راگاس گوربانی میں اپنا واحد سولو البم جاری کرنے کا انتخاب کیا اور "ریہرہاس صاحب" شام کی شام "پاٹھ" کو اس کے اصلی راگوں میں گایا۔ اس کے بعد انہوں نے پنجابی لوک گیتوں کی البمز جاری کیں، جن میں کچھ والدہ کے ساتھ گائیے ہوئے گیت[4] اور کچھ سولو جن میں شبد کیرتن، شیو کمار بٹالوی کی شاعری، بھائی ویر سنگھ اور دیگر مشہور مصنفین شامل تھے۔ اس نے پنجابی فلموں جیسے راب دیان راکھان، دیسون پردیس اور مین ما پنجاب دی میں پلے بیک گلوکار کی حیثیت سے بھی اپنی آواز کا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔

پہچانترميم

نومبر 1997 میں پاکستان کے اپنے خیر سگالی اور ثقافتی تبادلے کے دورے کے دوران، وہ اور ان کی بیٹی سنائینی نے قذافی اسٹیڈیم، لاہور اور فیصل آباد (لائل پور) میں چناب کلب میں اپنی موسیقی کے ساتھ پاکستان کے سامعین کو راغب کیا۔ اور ان کی نمایاں شراکت کے طور پر انھیں مینار پاکستان کی سنہری تختی کے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

ذاتی زندگیترميم

وہ لائیو پرفارمنس سے لطف اندوز ہوتی ہے اور سامعین کا فوری رد عمل اس کے حوصلے بلند کرتا ہے۔ وہ پنجابی موسیقی کو اپنی خالص شکل میں زندہ رکھنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنا چاہتی ہیں۔[5] وہ نائٹنگیل میوزک اکیڈمی میں داخلہ لینے والے سرشار طلبہ کو موسیقی سکھا رہی ہے

حوالہ جاتترميم

  1. "Ru-ba-ru with Dolly Guleria". دی انڈین ایکسپریس. 4 October 1999. اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2011. 
  2. "Working Partners". دی انڈین ایکسپریس. 18 June 2010. اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2011. 
  3. "Her mother's daughter". دی ٹریبیون. 31 July 1998. اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2011. 
  4. "The Nightingale of Punjab Falls Silent". OhmyNews. 17 June 2006. 14 مارچ 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2011. 
  5. "Concern over vulgarity in Punjabi music". دی انڈین ایکسپریس. 7 August 2006. اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2011.