ککے عباسی روپڑی شیخ ہیں۔ یہ پنجاب کے علاقے سرہند میں ایک پنجابی بولنے والی باثروت و متمول برادری تھی۔ روپڑ شہر کا شیخان محلہ اس برادری کے نام پر ہے۔ روپڑی شیخ خود کو عباس بن عبدالمطلب کی اولاد ہونے کی وجہ سے عباسی کہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں یہ خاندان کشمیر میں آباد تھا، وہاں سے ہجرت کرکہ یہ روپڑ پنجاب، ہندوستان آباد ہوا۔ انہوں نے یہاں شیخ کا لقب اختیار کیا اور گوری رنگت ہونے کے سبب یہ ککے شیخ کہلاوائے۔ 1947 کی تقسیم میں اس کمیونٹی کا تحصیل روپڑ میں وسیع پیمانے پر قتل عام ہوا اور یہ برادری ہجرت کر کے لاہور شیخوپورہ اور فیصل آباد میں مقیم ہوئی.[1] [2]

امبالہ گزٹیر ایڈیشن (1883-84) [3] اور ایڈیشن (1923-24) کے مطابق۔ [4]

روپڑ کے عباسی "(شیخ) زمیندار ہیں لیکن زیادہ تر خود کاشتکاری کی بجائے مزارعین پر انحصار کرتے ہیں اور خود زراعت نہیں کرتے ہیں۔" ان کا ذکر "شیک" نام سے بھی ہے۔ یہ پٹھانوں سے بالاتر ہیں لیکن سید سے نیچے ہیں۔ سن 1941 کی مردم شماری کی رپورٹ میں روپڑ کی ککے عباسی برادری کے افراد سرکاری ٹھیکیدار اور صراف سنار کے کاروبار سے منسلک پائے گئے ہیں۔ اور مردم شماری میں ان کو شیخ برادری کے ساتھ گنتی کیا گیا ہے. [4][3]

1945-46 کے الیکشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے شیخ محمد حسین عباسی روپڑ تحصیل سے امیدوار تھے جنہیں روپڑ کے پندرہ ہزار رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 14999 مسلم ووٹ ملے تھے۔ [5]

شیخان محلہترميم

شیخان میراں محلہ/ شیخان محلہ المعروف کوچہ عباسیہ قدیم میونسپلٹی ہے جس کے اطراف میں روپڑ / روپ نگر کا جدید شہر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ پنجاب کے سرہند علاقے میں دریائے ستلج کے کنارے واقع ہے۔ تقسیم سے پہلے عباسی مسلمان ذات کے لوگ یہاں آباد تھے، جنہیں شیخانِ روپڑ یا روپڑ کے شیخ بھی کہا جاتا تھا۔ اسی نام سے یہ محلہ موسوم ہوا. 1947ء میں یہ مسلم آبادی بے دردی سے شہید کی گئی۔ بچ جانے والے افراد پاکستان ہجرت کر گئے. [1]اب یہ روپڑ / روپ نگر شہر کے مرکز میں واقع ہے اور ہندو سکھ آبادی پر مشتمل ہے۔

روپڑی شیخوں کا قتل عامترميم

روپڑ شہر کے عباسی شیخان تحصیل روپڑ کے نہایت بااثر اور دولت مند افراد تھے اور تمام تحصیل کے مسلمانوں کی قیادت کرتے تھے۔ روپڑ میں گائے کی قربانی کے مسئلہ پر دو بار بڑی لڑائیاں ہوئی تھیں. جن میں عباسی شیخان نے کھل کر مسلمانوں کا ساتھ دیا اور آگے آئے. ان لڑائیوں میں ہندووں اور سکھوں کا بہت نقصان ہوا تھا اور ان کی شیخان کے ساتھ ضد ہو گئی تھی. یکم ستمبر 1947 کو روپڑ کے ایس ڈی ایم پنڈت لکشمی چند نے عباسی شیخان کو دھوکا سے قائل کر لیا کہ ان کے لیے پاکستان سے ٹرین منگوائی گئی ہے وہ باحفاظت ٹرین میں سوار ہو کر انبالہ کیمپ چلے جائیں. جہاں سے انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے گا. اس سازش میں مہاراجا پٹیالہ بھی شامل تھا جو پچھلی لڑائیوں کا بدلہ پورا کرنا چاہتے تھے۔ روپڑ شہر کے دو ہزار کے لگ بھگ شیخ اس خونی ٹرین میں سوار ہو گئے۔ سرہند ریلوے اسٹیشن پر جا کر یہ ٹرین روک دی گئی اور وہاں پر پہلے سے مہاراجا پٹیالہ کی فوج کے پانچ سے چھ ہزار سکھ جتھے موجود تھے۔ تلواروں اور برچھوں سے مسلح سکھ جتھوں نے ٹرین پر دھاوا بول دیا۔ دو ہزار لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔ پانچ فیصد لوگ بڑی مشکل سے بچے جن میں سے اکثر نے روضہ مجدد الف ثانی میں پناہ لی.

جمیل اطہر قاضی نے نوائے وقت اخبار میں چھپنے والے 16 اگست 2020 کے کالم "دیارِ مجددؒ سے پاکستان تک" اور 23 اگست 2020 کے کالم "سرہند ریلوے سٹیشن: روپڑ کے مسلمانوں کا قتل عام" میں مفصل انداز میں اس روپڑ کے شیخوں کے قتل عام کے افسوسناک واقعہ کو بیان کیا ہے.

دیارِ مجددؒ سے پاکستان تک [6]

آج یہ کالم اپنے والد قاضی سراج الدین سرہندی مرحوم کے ایک مضمون کی نذر کررہا ہوں جو مولانا عبدالرحیم اشرف کی زیرادارت ہفتہ روزہ المنبر فیصل آباد کے آزادی نمبر1959 ء میں شائع ہوا تھا اوران کے صاحبزادے ڈاکٹر زاہد اشرف کی مدد سے میں اسے حاصل کرسکا۔ والد صاحب قیام پاکستان کے موقع پر حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مزار میں واقع مہاجر کیمپ کے انچارج تھے۔ اس مضمون میں جن واقعات کا تذکرہ ہے اس کی کچھ تفصیل ڈاکٹر سعید احمد ملک کی کتاب ’’1947 ء کا مسلم قتل عام‘‘میں صفحہ275 پر ’’جب سر ہند سٹیشن مقتل بنا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے شائع کی ہے۔
25 اگست 1947 ء وہ دن تھا جب اپنا گھر بار چھوڑ کر حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مزار پر پناہ لینی پڑی۔ ابھی مزار اقدس کو کیمپ قرار نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی مہاجر وہاں پہنچا تھا مگر میرے خاندان کا وہاں پہنچنا تھا کہ علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔ ہمارے کاروباری ادارے بند دیکھ کر علاقے کے مسلمانوں میں خوف و پریشانی بڑھنے لگی۔ ادھر 23 اگست کو سر ہند ریلوے اسٹیشن پر ایک مسلمان کو گاڑی سے قتل کرکے پلیٹ فارم پر گرانے سے گاڑی میں سوار ہونے والوں کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا اور مسلمانوںنے سفر کرنا بند کر دیا تھا۔ چنانچہ اس واقعہ سے متاثر ہو کر گاڑی میں سوار مسلمانوں کو قتل کیا جارہا تھا۔ مختلف شہروں میں واقف کار لوگوں کو بے شمار خطوط لکھے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں مسلمانوں کو گاڑی میں سفر کرنے سے روکیں تاکہ جتنی جانوں کو ممکن ہو بچایا جاسکے۔ حالات کے تقاضے کے پیش نظر31 اگست کو دربار مجدد کے اندرونی حصہ میں متولیان کے علم میںلائے بغیر علاقے کے مسلمانوں کی ایک میٹنگ طلب کرکے حالات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ متولیان درگاہ کے مشورہ سے یہاں کیمپ قائم کر دیا جائے۔ چنانچہ راقم الحروف کو یہ ذمہ داری سپرد کی گئی کہ درگاہ کے خلیفہ سید مقبول احمد کو اس سلسلہ میں گفتگو کرکے کیمپ قائم کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔ چنانچہ چند دیگر احباب کے ساتھ درگاہ کے متولیان کو اس بات پر آمادہ کر لیا گیا کہ درگاہ شریف کے احاطہ میں مسلمانوں کی آمد کو نہ روکا جائے۔ دوسری طرف ایک سکیم تیار کی گئی کہ علاقہ ہذا میں مسلمانوں کے قبضہ میں جس قدر اناج موجود ہے اس سے جتنا بھی ممکن ہو درگاہ کے احاطہ میں لا کر محفوظ کر لیا جائے تاکہ پناہ لینے والے مسلمانوں کو بھوک سے بچایا جاسکے اور اس کیمپ کے پناہ گزین راشن سے تنگ نہ رہیں۔
چنانچہ یکم ستمبر1947 ء کو تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد باقاعدہ کیمپ قائم ہو گیا۔ علاقہ میں مسلمانوں پرظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔ بعض دیہات کو آگ لگائے جانے کی نہ صرف اطلاعات آنے لگیں بلکہ درگاہ کے بالائی حصوں سے جلتے ہوئے گائوں صاف نظر آنے لگے۔ کیمپ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ ایک جماعت تشکیل دیدی گئی جس کے صدر اعزازی طور پر درگاہ کے سجادہ نشین قرارپائے اور سیکرٹری کے فرائض کے لیے راقم الحروف کا نام منتخب ہوا۔ چنانچہ انتظامیہ کا باقاعدہ ایک دفتر قائم کر دیا گیا اور آنے والے مصیبت زدگان کا اندراج کیا جانے لگا۔ لوگوں نے دیہات سے اناج لانے اور جمع کرنے کی مہم میں پوری سرگرمی سے حصہ لینا شروع کر دیا۔
درگاہ پر کیمپ قائم ہوتے ہی ریاست پٹیالہ کے حکام کو تشویش شروع ہو گئی۔ چنانچہ مقامی حکام نے راقم الحروف کو طلب کیا اور ہدایت کی کہ مسلمانوں کو درگاہ میں جمع ہونے سے روکا جائے۔ یعنی دوسرے معنوں میں پناہ نہ دی جائے اور خود راقم کو بھی کہا گیا کہ اپنے گھروں کو واپس جائیں کوئی خطرہ نہیں۔ کوئی نقصان ہوگا تو حکام ذمہ دار ہوں گے۔ دوستوں سے مشورہ کے بعد ہی پالیسی طے ہوئی کہ چونکہ علاقہ میں سکھوں کے مظالم کی رفتار سے مسلمانوں میں خوف پیدا ہو چکا ہے اس لیے وہ ابھی ان حالات میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں چنانچہ حکام پٹیالہ کو یہی جواب دیا گیا لیکن وہ ہمارے اس جواب سے مطمئن نہ تھے۔ چنانچہ ڈی ایس پی کرم سنگھ اور ڈی سی ضلع بسی راجا سودیال سنگھ کے ہاں پیش کیا گیا۔ جہاں نمرود و فرعوں افسروں سے بہت کچھ سننا پڑا۔ چونکہ حالات تیزی سے بگڑ چکے تھے اس لیے گھروں کو واپس جانے کا سوال ہی ختم ہو گیا تھا۔
ان دنوں میں جب کہ اس علاقہ کے مسلمانوں کو کیمپ میں جمع ہونے سے حکام پٹیالہ روک رہے تھے رو پڑ سے کھاتے پیتے لوگوں کو پاکستان لے جانے کے بہانے گاڑی میں سوار کرایا گیا اور ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ اپنا تمام قیمتی سامان ہمراہ لے لیں کیونکہ ان کو سیدھا پاکستان لے جایا جائے گا۔ پہلے تو اس ٹرین کو سرہند روپڑ لائن کے مشہور ریلوے اسٹیشن بسی پٹھاناں پر روک کر حملہ کرنے کی سکیم بنائی گئی تھی لیکن بعد میں کسی اہم مجبوری کے سبب سر ہند جنکشن پر اس ٹرین میں پانچ چھ ہزار مسلح سکھوں نے سوچی سمجھی سکیم کے مطابق حملہ کیا۔ جو واقعات یہاں پیش آئے وہ ایک لرزہ خیز داستان ہے۔ روپڑ کے چیدہ چیدہ متمول خاندان اس میں سوار تھے۔ ان پر جو کچھ سرہند کے پلیٹ فارم پر گذری وہ قیامت سے کم نہ تھی۔ لاکھوں روپے کا سامان لوٹا گیا، سینکڑوں مسلمان جو گولی کی آواز سن کر اپنے گائوں سے یہاں پہنچے وہ اپنے گھروں کو واپس نہ جاسکے۔ بمشکل پانچ فیصد ہی بچ سکے ہوں گے۔ شیخ نعمت الٰہی جو روپڑ کے مشہور تاجر اور کاروباری فرد تھے لاشوں میں دب کر انبالہ پہنچ گئے۔ ان کے خاندان کے بے شمار افراد اس حملے کی نذر ہو گئے۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں تمام لاشوں کو اکٹھا کرکے تیل ڈال کر جلا دیا گیا۔ گاڑی کے اس حملے میں کچھ لوگ بھاگ دوڑ کرکے درگاہ پہنچے۔ ا نکے بیان کردہ حالات سے پتہ چلا کہ کچھ زخمی جوانکے ساتھ چل نہ سکے اور راستہ میں رہ گئے چنانچہ ایسے زخمیوں کو دیکھنے اور کیمپ میں لانے کے لیے رضا کاروں کا ایک دستہ اس راستے پر بھیجا گیا جس میں راقم خود بھی شامل تھا لیکن ایک دو بچوں کے علاوہ کوئی زخمی نہ مل سکا۔ بچوں کی زبانی معلوم ہوا کہ صبح ہی ایسے زخمیوں کو سکھ ختم کرگئے اور لاشوں کو اٹھا کر لے گئے۔ ادھر کیمپ میں پناہ لینے والے مسلمان مومن بن چکے تھے۔ مسجدیں نمازیوں سے پر ہونے لگی تھیں۔
7 نومبر 1947 ء کو درگاہ شریف سے یہ کیمپ پاکستان کی طرف روانہ ہوا۔ سپیشل گاڑی عین درگاہ کے قریب کھڑی کی گئی چند لوگوں کی تلاشی شروع ہوئی ہی تھی کہ بلوچ رجمنٹ کے سپاہیوں نے سکھ افسروں سے ہمیں نجات دلا دی۔ اس طرح تمام پناہ گزین تلاشی سے بچ گئے۔ 1947 ء کے واقعات سے سبق سیکھنے کے لیے ان گذرے حادثات پر نظر ڈال کر ان کی یاد تازہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجودہ اور صرف ایک محدود عرصہ کے لیے مہلت ہو۔ خدا ہم سب مسلمانوں کو اپنے گذرے ہوئے واقعات و حادثات سے سبق سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

سرہند ریلوے سٹیشن: روپڑ کے مسلمانوں کا قتل عام [7]

گزشتہ کالم میں سرہند ریلوے سٹیشن پر روپڑ سے آنے والی مسلمانوں کی ٹرین پر سکھوں کے سفاکانہ حملوں کے نتیجے میں ہونیوالے قتل عام کا سرسری تذکرہ ہوا تھا۔ ڈاکٹر سعید احمد ملک کی تصنیف ’’1947 ء کا قتل عام‘‘ میں اس خوں چکاں سانحہ کا قدرے تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔ یہ کالم اس کتاب میں بیان کیے گئے واقعات کے حوالے سے سپرد قلم کیا جارہا ہے۔ پٹیالہ شہر سے سر ہند سٹیشن تقریباً 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ روپڑ سے ریلوے لائن براستہ بستی پٹھاناں سر ہند سٹیشن جاتی ہے۔
’’الٰہی خاندان‘‘ روپڑ کے مقتدر، صاحب ثروت اور بااثر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ شیخ حمید الٰہی جو اس ہنگامۂ داروگیر اور قتل و غارت گری میں کسی طرح زندہ بچ گئے، اپنی داستان غم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب یکم ستمبر 1947 ء کا سورج طلوع ہوا تو روپڑ کی فضا سوگوار، بوجھل اور سہمی سہمی تھی۔ وہاں کے لوگوں کی چھٹی حس بتا رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔ چنانچہ ان کے والد اور تایا نے روپڑ کے ایس ڈی ایم پنڈت لکشمی چندر کو صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے رعونت میں ڈوبی ہوئی پُر خشونت آواز میںحکم دیا کہ ’’شام تک مسلمان شہر خالی کر دیں اور گاڑی میں سوار ہو کر چلے جائیں۔‘‘ یہ وہی ہندو افسر تھا جو اچھے دنوں میں میرے والد کو ہمیشہ عزت و تکریم سے خوش آمدید کہا کرتا تھا۔ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ مسلمان روپڑ کے سٹیشن پر کھڑی ’’خونی گاڑی‘‘ میں سوار ہو جائیں.
’’گاڑی دس بارہ ڈبوں پر مشتمل تھی۔ حالات سے مایوس اور مستقبل سے بے خبر کم و بیش دو ہزار نفوس اس میں سوار ہو گئے۔ سکھ فوج کا ایک دستہ گاڑی کو ’’بحفاظت‘‘ انبالہ پہنچانے پر مامور تھا… میں نے چشم پُر نم سے اپنے شہر کو آخری بار دیکھا۔ گاڑی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ دل دھڑک رہے تھے۔ نبضیں ڈوب رہی تھیں۔ میں آخری ڈبے میں سوار تھا۔ گاڑی نے بیس میل کا فاصلہ تقریباً پانچ گھنٹے میں طے کیا اور بسی پٹھاناں کے سٹیشن پر پہنچ کر رک گئی۔ گاڑی پھر خراماں خراماں چل پڑی۔ وہ رات کے تقریباً گیارہ بجے سر ہند ریلوے سٹیشن پر پہنچی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو مسلح سکھ نظر آئے۔ کسی نے کہا ’’گاڑی پر حملہ ہونیوالا ہے‘‘۔ اب ڈبے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہم نے ڈبے کے دروازے بند کر دیے اور کھڑکیاں چڑھا دیں۔ مکمل خاموشی چھا گئی۔ حملہ آور تلواروں، نیزوں، بھالوں، بلموں اور برچھیوں سے مسلح جھپٹنے کے لیے تیار و بے قرار کھڑے تھے۔
شمال و جنوب، دو اطراف سے بیک وقت حملے کاآغاز ہوا۔ بدمست و بدسرشت حملہ آوروں نے باہر سے نیزے اور برچھیاں مار مار کر کھڑکیاں توڑ دیں جو ریزہ ریزہ ہو کر اندر آگریں۔ دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹنے کے بعد حملہ آوروں اور ہمارے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہ تھی۔ اب حملے نے زور پکڑا۔ گولیاں گونجیںاور نیزے نکلے۔ کسی کا بازو کٹا، کوئی تلوار کی کاٹ سے نیم بسمل ہو گیا۔ کسی کے پہلو میں بلم پیوست ہو گئی، کوئی نیزے کی اَنی سے لقمہ اجل بنا۔ کسی کا سر قلم ہوا، کسی کی گردن لٹک گئی۔ اس وقت معصوم بچے بلک رہے تھے اور عورتیں نالہ و شیون کررہی تھیں۔ جو ان زخم پر زخم سہتے اور کراہتے تھے… میرے ہی برتھ پر جواں سال، صاحب جمال، خوش مقال و خوش خصائل میرے تایا زاد بیٹھے تھے۔ ان کی رفیقہ حیات اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے لگائے نشست کے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ ایک سکھ پائیدان پر کھڑا ہو گیا اور ان پر برچھی سے حملہ کرنا چاہا… فاصلے سمٹ گئے۔ زندگی اور موت روبرو تھی۔ شمع حیات بادِ صر صر کی زد میں تھی۔ ظالم نے برچھی کا تیز دھار و تابدار پھل میرے تایا زاد کے کشادہ سینے پر رکھ دیا اور بہیمانہ قوت سے برچھی کو بڑھایا اور دبا دیا۔ پھل سینے کی گہرائیوں میں اترتا اور دھنستا چلا گیا۔ زندگی اور موت کی باہمی آویزش کی کوکھ سے پیدا ہونے والی نزعی اور فلک شگاف چیخ نے فضا کو مرتعش اور متزلزل کر دیا۔ سنگدل نے برچھی کھینچی، خون کا فوارہ چھوٹا اور دیکھتے دیکھتے وہ چیخ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی… شگفتہ اور شکیل جوان… ایک لاش بن کر بالائی نشست سے نیچے نیم معلق تھا۔
حملے کو تقریباً پینتالیس منٹ گذر گئے۔ ڈبے میں بیت الخلا کے قریب زخمیوں اور لاشوں کا ایک ڈھیر بن گیا۔ میں اپنی نشست سے اٹھا اور ایک ہی جست میں ڈھیر پر جاگرا اور تہ میں چلا گیا۔ لاشوں اور زخمیوں نے مجھے ڈھانپ لیا۔ زخمیوں اور لاشوں کا بوجھ میری برداشت سے باہرتھا۔ ان کا خون رس رس کر میرے چہرے اور جسم پر گر رہا تھا۔ اسی اثناء میں سکھ حملہ آور گاڑی میں داخل ہو گئے اور لوٹ مار شروع کر دی۔ کسی نے جنبش کی تو اسے نیزے میں پرو دیا۔ کسی نے پہلو بدلا تو تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا۔ بہت خونریزی ہوئی۔ آخر خاموشی چھا گئی۔ میں فوراً اٹھا اور گاڑی سے باہر بھاگ نکلا… اور حضرت مجدد الف ثانی کے روضہ پر پہنچ گیا۔ محتاط اندازے کے مطابق اس رات دو گھنٹے کے وقفے میںسکھوں کے حملے اور سکھ فوج کے ’’نام نہاد‘‘ حفاظتی دستے کی فائرنگ سے کم از کم تیرہ سو مسافر شہید ہوئے… ایک روز میں روضہ کے باہر کھڑا تھا کہ دور سے ایک فوجی ٹرک آتا دکھائی دیا جو مسلمان فوجیوں کے اہل و عیال کو لے کر پاکستان روانہ ہونے والا تھا۔ شام کے چار بجے ہم واہگہ پہنچ گئے۔ اس وقت وہاں روٹیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔‘‘
الٰہی خاندان کے بائیس افراد سرہند ریلوے اسٹیشن پر شہید ہوئے۔ اس وقت ہر طرف خون ہی خون تھا۔ یہ مظلوموں اور ان کی حسین امیدوں کا خون تھا۔ یہ راہِ وفا کے شہیدوں کا خون تھا لیکن یہی خون نوزائیدہ مملکت کے چہرے کا غازہ بھی تھا، جھومر اور سولہ سنگار بھی تھا۔‘‘ کشتگان خنجرِ تسلیم را / ہر زماں از غیب جان دیگر است

مزید دیکھیےترميم

عباسی

روپڑی شیخ

شیخیاں محلہ

روپڑ

حوالہ جاتترميم

  1. People of India Punjab Volume XXXVII edited by I.J.S. Bansal and Swaran Singh
  2. Sir Denzil Ibbetson, Maclagan. Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North West Frontier Province. 1996. p. 240.
  3. J. M. Wikeley, Rana Rehman Zafar (1968). Punjabi Musalmans. Pakistan National Publishers. p. 84.
  4. Punjab district gazetteers 1885
  5. Punjab District Gazetteers. A Gazetteer 17 Phulkian States. Patiala Jind [and] Nabha 190
  6. New Cambridge History of Islam The New Cambridge History of Islam: Volume 5, The Islamic World in the Age of Western Dominance
  1. ^ ا ب "| Majri | Morinda Rupnagar to Bahalike Mandi Dhaban Sheikhupura | Partition video by IPPD" تحقق من قيمة |url= (معاونت).  [مردہ ربط]
  2. "شیخیاں محلہ گوگل میپ". 
  3. ^ ا ب "امبالہ گزٹئیر 1883-1884". 
  4. ^ ا ب "امبالہ گزٹئیر 1923- 1924". 
  5. استشهاد فارغ (معاونت) 
  6. "دیار مجدد سے پاکستان تک". روزنامہ نوائے وقت لاہور. 
  7. "سرہند ریلوے سٹیشن: روپڑ کے مسلمانوں کا قتل عام". روزنامہ نوائے وقت لاہور.