عباسی

ویکیپیڈیا ضد ابہام صفحہ

عباسی ایک خاندانی نام ہے، جو عباس بن عبد المطلب کی نسل و اولاد سے ہیں، خلافت عباسیہ سے ان کی نسلی نسبت بھی قومیت عباسی مراد ہو سکتی ہے، سندھ میں کلہوڑے بھی خود کو عباسی کہتے ہیں، سندھ ہی سے ہجرت کر کے بہاولپور آنے والے داؤد پوترے ریاست بہاولپور کے عباسی حکمران خاندان کہلاتے ہیں۔ تحصیل روپڑ (ضلع روپ نگر) کے روپڑی شیخ بھی عباسی ہیں جو ککے عباسی کہلاتے ہیں۔ ککے عباسیوں کا جدامجد شاہ خالد بن ولید ہے جو عباسی شہزادہ تھا اور غزنوی غوری دور میں روپڑ آیا. شاہ خالد بن ولید کا مزار آج بھی روپڑ میں واقع ہے۔ شاہ خالد بن ولید خوبصورت عرب جوان تھے اور ان کے بیٹے شیخ میراں عباسی نے روپڑ میں شیخانِ میراں محلہ آباد کیا. روپڑی شیخ اسی کی اولاد ہیں اور یہ وسیع و عریض محلہ آج بھی روپڑ میں موجود ہے. مری ضلع راولپنڈی میں آباد عباسی عام طور پر ڈھونڈ عباسی کہلاتے ہیں سندھ میں انجمن اتحاد عباسیہ تنظیم قائم ہے جس کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر شفقت حسین عباسی ہیں، علاوہ ازیں ایک متحدہ اتحادعباسیہ ہے جس کے مرکزی رہنماء سردار ممتاز عباسی ہیں۔فقہ عباسیہ ان کی دینی فکر ہے۔ خاندان عباسیہ کے علاوہ پیروکاران خاندان عباسیہ بھی اپنے ناموں کے ساتھ عباسی لکھتے ہیں یہ پیروکاران خاندان عباسیہ وہ لوگ ہیں جو فقہ عباسیہ مذہب ابن عباس آل عباس کے ماتحت تھے اور خاندان عباسیہ کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین کے خلاف جہاد و قتال کرنے والوں کی اولادیں ہیں۔

مری اور گرد نواح کے عباسیترميم

عباسی جو مری ہزارہ روالپنڈی اور جہلم کے زیریں علاقہ میں آبادی ہیں۔ ابسن کا کہنا ہے کہ یہاں بہت سے قبائل جن میں دھوند (دھونڈ)، ستی، کیتوال، دھنیال، بکھرال، بدھال، اپسیال، کھروال، کنیال اور کہوٹ وغیرہ قبائل جہلم اس طرف کے پہاڑی علاقہ میں آباد ہیں اور ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سب نے بیرونی نژاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پر ٹی دبلیو ٹالبورٹ نے حیرت کا اظہار کیا اور اس کہنا ہے حیرت ہے یہاں کسی قبیلے دعویٰ یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ 1885 کی مردم شماری تک ان کا دعوی تھا کہ وہ رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کی اولاد میں سے ہیں۔ مگر اس وقت تک ڈھونڈ کہلاتے تھے اور عباسی بعد میں کہلوائے۔ ان کی ایک روایت کے مطابق ان کا مورث اعلیٰ تخت خان تیمور کے ساتھ دہلی سے آیا تھا اور شاہ جہاں کے دور میں اس کا بیٹا ژوارب خان کہوٹہ آیا۔ یہاں اس نے اور جدوال، دھوند، سرار اور تناولی کا بانی بنا، اس کا بیٹا کھلورا یا کولو رائے کشمیر گیا جس نے وہاں ایک کشمیری لڑکی سے شادی کی اور اس کے بطن سے دھوند قبیلہ وجود آیا اور ایک کیتھوال عورت سے اس کے ناجائز تعلقات تھے۔ جس سے ایک لڑکے نے جنم لیا جس سے ستی قبیلہ وجود میں آیا۔ لیکن ستیوں کا کہنا ہے وہ نوشیرواں کی نسل سے ہیں۔ یہ کہانی بتاتی ہے صرف تین سو سال سے کم عرصہ میں ان کی آبادی کثیر تعداد میں وجود میں آگئی اور مقامی آبادی فنا ہو گئی۔ جو ممکنات میں سے نہیں ہے۔[1] ہزارہ کے علاقہ میں اندوال کے نام سے آباد ہیں۔ انہیں ابسن ڈھونڈوں کی ہی ایک شاخ قرار دیا۔ یہاں کی مقامی روایات انہیں راجپوتوں کی اولاد بتاتی ہے۔ ای ڈی میکلیکن کہنا ہے وہ آج بھی مسلمانوں کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں ہیں۔ حتیٰ انہیں برتن بھی چھونے نہیں دیتے ہیں۔ ان کی شادی کی رسمیں ہندوانہ ہیں اور بارات دو تین روز دلہن کے گھر قیام کرے ہیں۔ یہ قبیلے سے باہر شادی شاذ کرتے ہیں۔ تاہم کثیر زواجی عام ہے۔ کولو رائے ایک ہندوانا نام ہے اور ایک روایت کے مطابق اس کی پرورش ایک برہمن نے کی۔ اپسن کا کہنا ہے اسے میجر ولس نے انہیں بتایا کہ تیس سال پہلے تک یہ اسلام سے برائے نام شناسا تھے اور ان کے رسم و رواج اور اعتقاد کی یاد گاریں ان میں اب باقی ہیں اور ان کا ماخذ ہندو ہے۔ سکھ ان سے بہت نالاں تھے اور ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ جیمز ٹاد تاریخ راجستان میں پنواروں کی ایک شاخ کا نام دھوندا بتاتا ہے۔ لیکن غالباً ان کا تعلق پنواروں سے نہیں ہے۔ ان میں نسلی تفاخر بہت زیادہ ہے۔ یہ کاشت کار ہیں اور مویشی بھی پالتے ہیں، پہاڑیوں پر رہنا پسند کرتے ہیں اور سردیوں میں پہاڑوں سے نیچے اتر آتے ہیں۔[2]

شجرہ نسب عباسی خاندانترميم

شاہ طایق شاہ (نام کے ساتھ شاہ کے لقب کی بجاءے خان کا لاحقہ یہ تاثر دیتا ہے کہ طایق شاہ پہلے شخص تھے جو افغانستان آے اور ان کو خان کا لقب دیا گیا اس لیے انے طایف خان بھی کہتے تھےضراب خان عباسی۔ایک سو چھتیس ہجری میں ہرات )افغانستان( عباسیوں کی حکومت میں شامل ہوا تو قطب شاہ جو حضرت حنیف ابن علیؓ کی اولاد میں سے تھے کو والی ہرات مقرر کیا اور ضراب خان عباسی )زرائب خان عباسی( حاکم صوبہ مقرر ہوئے۔اس وقت کشمیر کاحکمران ہرات کے حاکم کے زیر اقتیدار کام کرتا تھا جس نے خراج )ٹکس ( دینا بندھ کر دیا اور اس کی سرکوبی کے لیے ضراب عباسی کی سرکردگی میں ایک فوج بھجی )یہ وہی ضراب عباسی ہیں جن کی اولاد کشمیر ہزارہ تناول مری اور بہت سے دیگر علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ضراب عباسی کے بیٹے کا نام اکبر گہی خان تھا۔ اکبرگہی خان کے صرف بارہ بیٹوں کا ریکارڈ میرے پاس موجود ہے ۔ )اکبر گہی خان اور اُن والد ضراب عباسی کے مزار درانکوٹ میں موجود ہیں ( ان کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: دلہوس خان ،ہنس خان، سراڑہ خان،تنولی خان ،باران خان، کہوندرخان، ہزاریا خان ججر کنال خان ،سالاں خان ،کور خان ،آگر خان ؛حاکم خان اور مولم خان:) ہم کہوندر خان کی اولاد سے ہیں۔ )ہمارے دادا کا نام تھا( ان کے بیٹوں کا نام کلہاراخان المعروف کلورائے خان ،کوند خان ،نکودر خان ،دلیر خان،رائب خان، شاہ ولی اللہ) المعروف ڈھونڈ خان ( جس خان، گلاب خان ، میر خان ) المعروف بیریا خان (ڈھمٹ خان )ان کا مزار گھوڑا گلی مری میں ہے ) ڈھمٹ خان کے چار بیٹے تھے ان کے نام ٹوٹا خان ،چملا خان،پمبی خان، ڈھبہ خان،)ہم لوگ پمبی خان کی اولاد سے ہیں،ان کے بیٹے کا نام بھگت خان ، چگا خان المعروف پونگے خان، تولک خان، تولک خان کے تین بیٹے تھے۔) ہم تولک خان کی اولاد سے ہیں(اعظم خان ملتان میں قتل کر دیےگئے۔ قاسم خان المعروف چند خان)ان کی اولاد کشمیر میں آباد ہے( عبدالرحمان عباسی المعروف رتن خان )ان کی اولاد مری اور ہزارہ میں ٓاباد ہے( رتن خان اور چند خان کے مزار چمن کوٹ ازاد کشمیرمیں ہیں جن کی تصویر میں نے نٹ پر دی تھی رتن خان کے چار بیٹے تھے لہر خان بھیخ خان ہیج خان اور بوڈا خان) ہم لہرخان کی اولاد سے ہیں اور لہرال کہلاتے ہیں، باقی سارے دادوں کی اولاد کی تفصیل بھی موجود ہے، ( لہرخان دادا کے چار بیٹے تھے، ہمو خان،ہمیرا خان،شیخ خان اور پیلو خان ،ہمیر دادا لاولد تھے یعنی اُن کی اولاد نہ تھی،ہموخان دادا کی اولاد کاسیری ،ہل،ڈھولو،ہکڑہ بیر گراں وغیرہ میں ٓاباد ہے،شیخ خان داداکی اولاد نمبل اور مجہوماں وغیرہ میں آباد ہے پہلوان خان المعروف پہلو خان دادا کی اولاد مولیا سے لیکر ایوبیہ تک آباد ہےاور ان کے بیٹے کا نام میر علی خان المعروف میرآلو خان تھا ان کے بیٹے کا نام داتا خان تھا ان کی اولاد مولیا میں آباد ہے اور اُن کے بیٹے کا نام شکر خان تھا۔ شکر خان کے چار بیٹے تھے یہ مولیا میں ٓاباد ہیں ان کے نام منگا خان )منگیال(،جی خان )جیال( ، ہنس خان) ہنسال( اور بالو خان)بالوال( تھا منگے خان کی اولاد ا منگیال کہلاتی ہے منگے خا ن کے دو بیٹے تھے،ماونری خان اور جوگی خان ۔ مانری خان کے چار بیٹے تھے ، میر بیگ خا ن، ڈھوڈا خان ،ایاخان اور´کھیرا خان۔ میں میر بیگ خان کی اولاد سے ہوں اس لیے میں اپنے دادوں کا نام لکھوں گا اور باقی بھائی بھی آسانی سے اب اپنا شجرہ لکھ سکتے ہیں ،اُن کے بیٹے کا نام چاند خان المعروف چنو خان اُن کے بیٹے کا نام غلام محمد تھا۔اُ ن کے دوبیٹے تھے شیر احمد خان اور شیردل خان اُ ن دونوں کا بھی ایک ایک بیٹا تھا شیراحمد دادا کے بیٹے کا نام نوردل خان ان کے پاںچ بیٹے ہیں اور شیردل خان کے بیٹے کا نام پوردل خان تھا،نوردل خان کے پٹے ہیں پوردل عربوں کی طرح ایک تھال میں بیٹھ کر کھانے کا تھا جو وقت اور ضرروت کے تحت بدلتا جا رہا ہے۔

سیاست دانترميم

کھلاڑیترميم

صحافیترميم

اداکارترميم

دیگر شخصیاتترميم

  • عنایت رسول عباسی، (پیدائش:1828 - وفات:1902) ہندوستان کے ایک ماہر لسانیات عالم
  • تنویر عباسی، (پیدائش: 1934ء - وفات:1999ء ) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے مشہور و معروف شاعر، محقق اور نقاد
  • مضطر عباسی، [3]، ایک پروفیسر جنھوں نے اسپرانتو زبان میں قرآن کا ترجمہ و تفسیر اور چالیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف
  • جسٹس عقیل احمد عباس کراچی
  • شہ محمد احمد کلیم اللہ لوط عثمانی عباسی عبقری چیمہ، یہ ہیں تو پیروکار خاندان عباسیہ سے اور خاندان عباسیہ کی دینی فکر فقہ عباسیہ کے مبلغ یعنی ان کے نام کے ساتھ عباسی تبرکا ہے لیکن خاندان عباسیہ میں اور ساری امت مسلمہ میں ان کو قدر کی نگاہ سے اس لیے دیکھا جاتا ہے کہ یہ اللہم فقہہ فی الدین کی دعائے نبوی کی فقہ کے خادم و محافظ ہیں۔ ان کے خاندان کا پچھلی کئی نسلوں سے لقب شہ شیر علی ہے
  • ظفر محمود عباسی نیول چیف آف سٹاف
  • احمد عباسی(گگومنڈی)
  • ابن الحسن عباسی

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم


  یہ ایک ضد ابہام صفحہ ہے۔ ایسے الفاظ جو بیک وقت متعدد معانی پر مشتمل ہوں یا متفرق شعبہ ہائے فنون سے وابستہ ہوں، انہیں ضد ابہام صفحہ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی اندرونی ربط کے ذریعہ آپ اس صفحہ تک پہونچے ہیں تو، آپ اس ربط کو درست کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں تاکہ وہ ربط درست اور متعلقہ صفحہ سے مربوط ہو جائے۔ مزید تفصیل کے لیے ویکیپیڈیا:ضد ابہام ملاحظہ فرمائیں۔