گالی گلوچ (انگریزی: Profanity) ایک سماج کو مشتعل کرنے والی زبان ہے، جس میں لعن طعن، ملامتی الفاظ، انتہا درجے گرانے والے الفاظ، رشتوں ناتوں کو یا ان کے حوالے سے برا بھلا کہنا یا عام الفاظ سے ماخوذ سوقیانہ معانی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان معاملوں میں استعمال سے گالی، گالی گلوچ، سوقیانہ یا عامیانہ زبان کو ثقافت کے کچھ گوشوں کی جانب سے ناشائستہ، سخت گوئی یا مشتعل کرنے زبان سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ خود کو یا کسی شے کو گراکر بیان کرنا ہو سکتا ہے، یا اسے کسی بات کی جانب اپنے انتہائی سخت جذبات کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے۔

کچھ قدیم اور ادبی پیرایوں سے "گالی گلوچ" کو ادب و احترام میں کمی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا ہے، حصوصًا ان معاملات سے متعلق جنہیں مقدس سمجھا گیا ہے۔ اس سے مراد ایسی کوئی چیز ہو سکتی ہے جسے محترم سمجھا گیا ہے، اور اسی طرح سے اس عمومی برتاؤ کے بارے میں جس میں اسی طرح کی بد احترامی یا مذہبی احترام کی پامالی شامل ہے۔

گالی گلوچ کی عمومی قباحتترميم

گالی گلوچ معاشرہ کے لیے ایک بڑی خطرناک برائی سمجھی گئی ہے ، اگر چیکہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ معمولی معمولی ، ناگوار کاموں کی وجہ سے گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ۔ گالی دینا ان کی بری عادت ہوتی ہے اوراسی عادت میں اتنی دور تک چلے جاتے ہیں کہ بعض اوقات انتہائی فحش گالیاں ان کی زبان سے اور منھ سے نکلتی ہیں، لیکن ان کو احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عادت والا کام بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ ایسے لوگوں سے صادر ہوتا ہے ، اس کے لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ گالیاں ایسے لوگ اس لیے دیتے ہیں کہ اپنی انا کی تسکین کے ساتھ اپنے خیال میں دوسرے لوگوں کی مرمت اور علاج بھی اس گالی میں سمجھتے ہیں ۔ اگر گالی دینے والے کو جواب نہ ملے تو گالی دینے والا اس کو اپنی برتری سمجھتا ہے او راس کے نفس او رانا کو سکون حاصل ہو جاتا ہے ۔ ایسے لوگ دوسروں کو گالیاں ان کو تکلیف اور ایذا پہنچانے کے لیے دیتے ہیں ۔ بعض لوگ دوسروں کوایذا کی خاطرگالیاں تو نہیں دیتے، لیکن ان کی عادت کچھ ایسی بن گئی ہوتی ہے کہ گو یا گالی ان کی غذا ہے، بات بات میں اور عام گپ شپ میں ہر ایک کو گالی دے کر پکارتے ہیں۔[1] انسانی معاشرے میں گالی دینا بہت قبیح اور بری عادت ہے اس سے لوگوں کو ایذا رسانی ہوتی ہے اور بعض مرتبہ بد زبانی جنگ و جدال بلکہ کشت وقتال تک پہنچا دیتی ہے۔ گالیوں کا دینا مذہبی اور عام قدامت پسند حلقوں میں گناہ سمجھا گیا ہے۔ مذاہب عالم میں گالی دینے والا شروع سے جنت میں ڈاخل نہیں ہو گا یا نجات نہیں پائے گا، بلکہ اپنے گناہ کے برابر جہنم کا عذاب چکھے گا۔ [2]


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم