مرکزی مینیو کھولیں

سمیک ورشٹی: مناسب نقطہ نظرترميم

بدھ مت کے اپنے روایتی انداز میں اس کا مطلب ہے: ”چیزوں کو اسی طرح دیکھنا جیسی کہ وہ ہیں۔“ عمومی اعتبار سے اس کا مفہوم زندگی کے بارے میں بدھ کے نقطہ نظر اور اس کی تعلیم کردہ چار بنیادی اور عظیم سچائیوں کو غیر مشروط طور پر مان لینا ہے۔ جو مذہبی اور غیر مذہبی نظریات بدھی افکار سے متصادم ہیں انہیں ترک کیے بغیر نجات کے راستے پر پہلا قدم بھی نہیں بڑھایا جاسکتا۔[1]

سمیک سنکلب: مناسب ارادہترميم

اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ایسے خیالات اور جذبات پیدا کرے جو اخلاقی برائیوں مثلاً غصہ، نفرت، لذت پرستی، خود غرضی اور تشدد کی نفی کرتے ہوں۔ مناسب ارادہ کا حامل شخص تمام مخلوقات کے لیے ہمدردی، ایثار اور محبت کا رویہ اپناتا ہے۔[1] بدھ مت کے درجہ ذیل اصول اسی نظریہ کی توسیع کرتے ہیں:

  1. میترا: محبت
  2. کرنا: ہمدردی
  3. اہنسا: عدم تشدد

سمیک واک: مناسب گفتگوترميم

یہ رکن ہر اس بات کے زبان سے ادا کرنے کی مخالفت زور دیتا ہے جو شر اور برائی کا سبب ہو۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری، فضول گوئی اور تلخ نوائی مناسب گفتگو کے دائرے سے یکسر خارج ہے۔ یہ اصول نرم گفتاری، راست گوئی اور متوازن اور مدلل گفتار کی تلقین کرتا ہے۔[1]

سمیک کرمانتا: مناسب اعمالترميم

اشٹانگ مارگ کے اس اصول میں ان تمام باتوں سے بچنا جو بدھ مت کی اخلاقیات میں ممنوع ہیں اور ان تمام اعمال کو سر انجام دینا جو بدھ پیرو پر لازم ہیں، شامل ہے۔ ہر جاندار سے ہمدردی، فیاضی اور خدمت خلق وغیرہ جیسے اعمال جو بدھ کی پسندید صفات ہیں، اسی ضمن میں شمار ہوتے ہیں۔[1]

سمیک اجیوا: مناسب رزقترميم

اس کا مفہوم اپنے رزق سے کمائی ہوئی حلال آمدنی کو استعمال کر کے زندگی بسر اور ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کی ممانعت ہے۔ ظلم، زیادتی، دھونس، بے ایمانی اور بدھ مت میں ممنوعہ پیشوں سے روزی کمانا اس عملی اور اطلاقی اصول کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔[1]

سمیک ویام: مناسب محنتترميم

اس سے مراد وہ قوت ہے جو پسندیدہ خیالات و جذبات کو پیدا کرنے اور انہیں اختیار کرنے نیز ناپسندیدہ جذبات و خیالات کو ابھرنے سے روکنے اور باطن بدر کرنے کے سلسلے میں سچے بدھی پیرو کو درکار ہوتی ہے۔ گوتم کے بقول ہمدردی، محبت، بے غرضی اور راست گفتاری وغیرہ اعلیٰ خیالات و تصورات میں شامل ہیں۔ ان اوصاف کو اپنی ذات میں پیدا کرنے اور ان کے برعکس خصائص کو ختم کرنے کے لیے جو کوشش کرنا پڑتی ہے وہی ”مناسب محنت“ قرار دی گئی ہے۔ سدھارتھ کے نزدیک نفسیاتی خواہشات، نفرت اور دنیاوی اشیا کے حصار رہائی پانا ہی اعلیٰ ترین اخلاقی تربیت کا مقصود ہے۔[1]

سمیک سمرتی: مناسب حافظہترميم

فرد سے معاشرے تک یکسان اثر آفرینی کے ساتھ قابلِ اطلاق اشٹانگ مارگ کے ساتویں اصول سے مراد مناسب باتوں کو یاد رکھنا اور نامناسب خیالات کو ذہن سے نکال پھینکنا ہے تاکہ بقائمی ہوش و حواس فلاح ذات کی سمت بھرپور کوشش ممکن ہو سکے۔ انسان کو ہر وقت ہر حالت میں خیالات، جذبات، حرکات و سکنات اور نشست و برخاست، گفتگو اور مختلف اعمال میں یکسو ہو کر اپنی راست الستمی کا تعین کرنا چاہیے۔ اس عمل میں غفلت اور لاپروائی سے پرہیز شرط اولین ہے۔ ایسا کرنے سے ہی انسان دیگر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی پابندی کر سکتا ہے ورنہ غیر منصوبہ بند اور اضطراری اعمال کے نتیجہ کے طور پر غلط کاریوں کی کھائیوں میں گرتا رہے گا۔[1]

سمیک سمادھی: مناسب مراقبہترميم

اشٹانگ مارگ کا یہ آٹھواں عملی اصول بدھ مت کی اہم ترین عبادت ہے کیونکہ گوتم نے نروان کی منزل مراقبہ ہی کی بدولت پائی تھی لہٰذا ان کے مریدین کے لیے بھی ”مناسب مراقبہ“ کے بغیر نجات کی سلطنت میں ممکن نہیں ہے۔ مناسب مراقبہ ہی وہ براہ راست سبب یا اقدام ہے جو نجات کا حصول ممکن بناتا ہے۔ بدھ تعلیمات کے مطابق مراقبہ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں جو نجات یا نروان کی منزل پر تمام ہوتا ہو۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ The Noble Eightfold Path: Way to the End of Suffering by Bhikkhu Bodhi