یہودی شناخت ایک بامقصد یا اظہار کردہ خود کی پہچان کی کیفیت ہے کہ کوئی شخص یہودی ہے اور اس کا تعلق یہودی اقدار سے ہے۔ [1] ایک جامع تعریف کے تحت یہودی شناخت اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ کوئی شخص کو دوسرے لوگ یہودی سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ یا پھر اس کا تعلق خارجی طور پر مذہبی، قانونی یا سماجی رواج سے بھی نہیں ہے۔ یہودی شناخت کا مطلب مذہبیت پسندی بھی نہیں ہے۔ اسی کی وجہ سے یہودی شناخت فطری طور پر ثقافتی بھی نوعیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ یہودی شناخت میں یہودی برادری سے روابط پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ مذہبی یہودیت اپنے عقیدے کی بنیاد مادرانہ نسب پر رکھ سکتا ہے۔ یہودی قانون (ہلاخا) کے مطابق ایک ماں کے سبھی بچے یہودی ہیں۔ ان کے ذاتی عقائد یا یہودی قانون کی عدم پاس داری کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔

ایسے یہودی جو خدا کو نہیں مانتے، وہ لوگ بھی اپنی یہودی شناخت رکھتے ہیں۔ حالاں کہ اس شناخت رکھنے والے زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو لے جلے اور غیر یہودی پس منظر رکھتے ہیں (دیکھیے: یہودی کون ہیں؟)۔ اس میں ایسے غیر یہودی بھی شامل ہیں جو یہودی آبا و اجداد رکھتے ہیں اور اب بھی خود کی یہودی شناخت رکھتے ہیں۔

یہودی علامات

ترمیم

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دور اقتدار میں شدت پسندی کے لیے شہرت رکھتے آئے ہیں۔ وہ عربوں اور فلسطینیوں پر نئی طرز کی حکمت عملی اپنا چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے کافی تنازع دیکھا گیا ہے۔

2014ء میں ان کی کابینہ ایک مسودہٴ قانون منظور کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہودی شناخت اور یہودی قانون تشکیل دینے کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحیثیتِ سرکاری زبان، عربی کا درجہ ختم کرنے کی بھی متصلًا ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ [2]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم