آب حیات مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف ہے جسے کلاسیکی شاعروں کا جدید تذکرہ شمار کیا جاتا ہے۔

ترتیب و تدوینترميم

یہ کتاب پانچ ادوار پر مشتمل ہے جس کے پیچھے بیس برس کی محنت کارفرما ہے۔
آب حیات کے آغاز میں مولانا محمد حسین آزاد نے اردو کی تاریخ کا ایک باقاعدہ نظریہ پیش کیا ہے اور اس کے فوراً بعد اردو نثر اور اردو نظم کی تاریخ ہے۔

انفرادی خصوصیاتترميم

اس سے قبل کے تذکروں میں تنقید، حالات اور شاعری کا تجزیہ آب حیات جیسا متوازن انداز میں نہیں ہوتا تھا۔ اس کتاب میں افسانویت، ادبیت اور تاثراتی نثر ہے۔ انشاء پردازی میں یہ کتاب اردو ادب میں لازوال حیثیت کی حامل ہے۔
آب حیات کو اپنی زبان، شائستگی اور لطافت کے باعث نثر کی الہامی کتاب کا درجہ حاصل ہے۔[1] آب حیات میں اردو زبان و ادب کی تاریخ کو کافی مفصل انداز میں بیان کیاگیاہے۔[2]

اشاعتترميم

1880ء میں پہلی بار وکٹوریہ پریس لاہور سے شائع ہوئی۔

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم