آتشک۔

یہ ایک جنسی بیماری ہے۔اس کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔

علامات

متاثرہ عورت یا مرد سے جنسی ملاپ کے کچھ ہفتوں بعد بیکٹیریا کے داخل ہونے کی جگہ پر ایک پھنسی ظاہر ہوتی ہے،جو بعد میں پھٹ کر زخم کی شکل اختیار کر لیتی ہے لیکن اس زخم میں کوئی درد نہیں ہوتا۔یہ اس بیماری کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔۔زخم کچھ دنوں میں ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔اس کے تقریبا چھ مہینے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے جس میں پورے جسم حتی کہ ہتھیلیوں اور تلووں پر بھی گلابی رنگ کے دانے نکل آتے ہیں،ان دانوں میں اگر پیپ وغیرہ پڑ جائے تو اس میں بھی بیکٹیریا موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ بخار،ٹانسلز کا بڑھنا اور کمزوری بھی اس درجے کی علامات میں شامل ہے۔بغیر علاج کے یہ درجہ بھی خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے اور مریض اس مرحلے کے بعد اس بیماری کو منتقل نہیں کر سکتا۔

اس کے بعد کل مریضوں میں سے ایک تہائی مریضوں میں آتشک کا اگلا درجہ ٹرثری سفلس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے جس میں ہڈیوں میں گما کے نام سے ابھار ظاہر ہوتے ہیں۔یہ ابھار نرم اور نان کینسیرس ہوتے ہیں جو جسم کے مختلف اعضا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ان میں درد ہوتا ہے۔

پنسلین کی دریافت کے بعد یہ درجہ بہت کم مریضوں میں دیکھا گیا ہے۔

نیوروسفلس

جب آتشک کا اثر دماغ کے حصوں پر ہو تو یہ نیورو سفلس کہلاتا ہے۔

علاج

پنسلین سب سے پہلی تجویز ہے۔ابتدائی درجوں میں عام طور پر ایک سے دو انجکشن کافی ہوتے ہیں لیکن پنسلین کی ڈوز بیماری کی مدت ،درجات وغیرہ کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہے۔

وجوھات

1.متاثرہ شخص سے جنسی تعلقات

2.بغیر سکریننگ خون کی منتقلی

3.استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال

4.جنسی رطوبات وغیرہ۔

بچاو

1۔غیر محفوظ جنسی تعلق سے پرہیز۔

2۔سرنجوں کو ایک دفعہ استعمال کے بعد تلف کر دینا

3۔سکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی سے اجتناب۔