آسمانی بجلی (انگریزی: Lightning) دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب بادل اور تیز ہوا ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں۔ آسمانی بجلی میں کروڑوں وولٹ اور کروڑوں ایمپئر کرنٹ ہوتا ہے۔ جو زمین پر دو طرح سے لپکتا ہے۔
1۔ جو شخص یا چیز مثلا عمارت اور درخت وغیرہ جو اس جگہ کی مناسبت سے اونچے ترین ہوں، ان پر بجلی گر کر زمین میں چلی جاتی ہے۔

‎آسمانی بجلی
1905ء میں کیا گیا ایک تجربہ۔ آسمانی بجلی کے گزرنے پر ایک دھاتی نلکی پچک گئی ہے۔ ایسا ہونا Z-Pinch کہلاتا ہے۔

‎2۔ سائنسدانوں کے مطابق زمین میں بھی مثبت یا منفی چارج ہوتا ہے۔ اس لیے آسمانی بجلی بھی اس چارج کی طرف لپکتی ہے اور زمین میں چلی جاتی ہے۔ حد درجہ وولٹیج اور میگا ایمپئرز کی وجہ سے آسمانی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو رواننا کر دیتی ہے،جس کی وجہ سے ہوا میں اس کا سفر ممکن ہوتا ہے۔

اعداوشمار بتاتے ہیں کہ بھارت دنیا میں گرنے والی آسمانی بجلی کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں ہر سال 2500 افراد اس کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. https://www.bbc.com/urdu/regional-60372980 آسمانی بجلی: ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بننے والی نیلی بجلی جو انڈیا پر قہر بن کر گِرتی ہے سوتک بسواس بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم