آمد ثانی یا ظہور دوم ایک مسیحی عقیدہ جسے یسوع مسیح کی آمد بھی کہا جاتا ہے۔ ،[1] اُسے بھی متعدد اہم الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پُروضیا (Parausia) جس کا مطلب ”موجودگی“ یا ”آمد“ ہے۔[2][3] اور اِسے یونانی میں بادشاہ کی آمد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بائبل کے مطابق یسوع مسیح آسمان پر چڑھ گئے اور پھر دنیا کے آخر میں [4] مخالفِ مسیح اور بدی کو نیست کرنے [5] راستباز مُردوں کو زندہ کرنے [6] نجات یافتہ لوگوں جمع کرنے کے لیے [7] قدرت اور جلال کے ساتھ[8] شخصی طور پر اسی زمین پر آئیں گے۔[9] اُن کی دوسری آمد اپوکلپسِس (apokalypsis) بمعنی پردہ اُٹھایا جانا بھی ہوگی۔ اُس وقت ان کے سرفراز ہونے اور آسمان پر تخت نشین ہونے کے باعث[10] اُن کی قدرت اور جلال دنیا پر ظاہر کیے جائیں گے۔[11] اِس وقت مسیح خدا کے دہنے ہاتھ پر بیٹھ کر حکومت کر رہے ہیں۔[12][13] اور خدا کے تخت میں شریک ہیں،[14] لیکن اُن کی یہ حکومت دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ اُن کی آمد ثانی apokalypsis کے ذریعے دنیا پر ظاہر ہو جائے گی۔[15] اس طرح مسیح کی آمد ثانی اُن کے صعُودِ آسمانی اور اُن کی آسمان پر تخت نشینی سے الگ نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ دنیا پر اپنے موجودہ اختیار کو ظاہر کریں گے۔ تیسرا لفظ اِپی فینیا (epiphaneia) ہے جس کا مطلب ظہور، جو مسیح کی دیدنی آمد کو ظاہر کرتا ہے۔[16]

دوسری آمد کا یونانی آئیکن

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. عبرانیوں باب 9 آیت 28
  2. 1 کرنتھیوں باب 16 آیت 17
  3. 2 کرنتھیوں باب 7 آیت 7
  4. متی باب 24 آیت 3
  5. 2 تھسلنیکیوں باب 2 آیت 8
  6. 1 کرنتھیوں باب 15 آیت 23
  7. متی باب 34 آیت 31 ؛ 2 تھسلنیکیوں باب 2 آیت 1 مقابلہ کیجیے متی باب 24 آیت 37،39 ؛ 1 تھسلنیکیوں باب 2 آیت 9 / 3 آیت 13 / 4 آیت 15 / 5 آیت 23 ؛ یعقوب باب 5 آیت 7،8 ؛ 2 پطرس باب 1 آیت 16 ؛ یوحنا باب 2 آیت 28
  8. متی باب 24 آیت 27
  9. اعمال باب 1 آیت 11
  10. فلپیوں باب 2 آیت 9 ؛ افسیوں باب 1 آیت 20–23 ؛ عبرانیوں باب 1 آیت 3 / باب 2 آیت 9
  11. 1 پطرس 4:13
  12. عبرانیوں باب 1 آیت 3 / باب 12 آیت 2
  13. 1 کرنتھیوں باب 15 آیت 25
  14. مکاشفہ باب 3 آیت 21
  15. 1 کرنتھیوں باب 1 آیت 7 ؛ 2 تھسلنیکیوں باب 1 آیت 7 ؛ 1 پطرس باب 1 آیت 7،13
  16. 2 تھسلنیکیوں باب 2 آیت 8 ؛ 1 تمیتھیس باب 4 آیت 14 ؛ 2 تمیتھیس باب 4 آیت 1،8 ؛ ططس باب 2 آیت 13