نزول عیسیٰ سے مراد مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس کے مطابق پیغمبر عیسی ابن مریم کی آمد ثانی یقینی ہے یعنی اِس دنیائے ارضی میں وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ عیسی ابن مریم کی اس آمدِ ثانی کو علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ اُن کی آمد قربِ قیامت واقع ہوگی۔

عقیدہ نزول عیسیٰترميم

اِسلامی عقیدہ کے مطابق عیسی ابن مریم نہ تو صلیب پر چڑھائے گئے اور نہ ہی اُن کی طبعی وفات واقع ہوئی بلکہ وہ زِندہ آسمان پر اُٹھا لیے گئے ہیں، اِسی بنا پر آخری زمانے میں اُن کی دوبارہ آمد اِس دنیا میں ہوگی۔

سورة المائدہ آیات ۱۱۶ اور ۱۱۷ میں اللہ اور عیسیؑ کے مبین ایک مقالمہ نکل ہوا ہے۔ بروز قیامت اللہ حضرت عیسیؑ سے سوال کرتے ہیں۔ کیا عیسیؑ تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کا خدا بنا لو۔ جس پر عیسیؑ جواب آیت ۵:۱۱۶ میں کہتے ہیں۔ مجھے لائق نہیں ایسی بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔پھر مذید آیت ۵:۱۱۷ میں فرماتے ہیں " میں (عیسیؑ) نے ان سے، اس کے سوا کچھ نہیں کہا، جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں اس وقت تک ان کا نگران تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھےاٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ "۔

اگر عیسیؑ قبل قیامت دنیا میں واپس آتےتو اپنی صفائی پیش کرتے وقت یہ نہ کہتے کہ" جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھےاٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا"۔ بلکہ فرماتے ہاں میں ابھی ان کو درست راہ کی پہچان کروا کر آیا ہوں۔ نہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئے اور نہ اُنکو آخرت میں اللہ کےسامنے اپنے اور اپنی ماں کے لوگوں کو خدا بنائے جانے پر جوابدے ہونا پڑا۔ یہ محض ایک عقائدہ ہے جو مشہور ہو چکا ہے کہ عیسیؑ دنیامیں واپس آئیں گے مگر قرآن سورة المائدہ آیات ۱۱۶ ، ۱۱۷ میں اس عقیدے کی صریح نفی کرتا ہے۔

اور جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ، مریم کے بیٹے کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کہ سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو۔ وہ  عرض کرے گا تو پاک ہے مجھے لائق نہیں ایسی بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہو گا، تو تجھے ضرور معلوم ہو گا۔ جو میرے دل میں ہے، تو جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جانتا، بےشک تو ہی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔۵:۱۱۶[1]

میں (عیسیؑ) نے ان سے، اس کے سوا کچھ نہیں کہا، جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں اس وقت تک ان کا نگران تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھےاٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ ۵:۱۱۷ [2]


اِس عقیدے کے متعدد شواہد و ثبوت پیغمبر محمد کی احادیث میں ملتے ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث میں یہ عقیدہ یوں بیان ہوا ہے کہ:

اُس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ضرور وہ وقت آنے والا ہے جب عیسیٰ ابن مریم عادل حاکم بن کر اُتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جنگ موقوف کر دیں گے اور مال کی اِس درجہ کثرت ہوگی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔[3][4]

بوقت نزول حلیہ مبارکترميم

امام احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) نے مسند احمد بن حنبل میں کسی قدر طویل اور مفصّل روایت کو نقل کیا ہے جس میں نزول عیسی ابن مریم کے متعلق تفصیل سے علامات ملتی ہیں جس سے اُن کو اُن کی آمد کے وقت پہچاننا باآسانی ممکن ہو سکے گا۔ مسند احمد بن حنبل میں نقل کردہ روایت کے مطابق بوقت نزول عیسی ابن مریم کا حلیہ یوں ہوگا: ’’میانہ قد، سرخ و سفید رنگت والے ہوں گے، اُن کے بدن پر سرخی مائل دو چادریں ہوں گی اور وہ اِس حال میں نازل ہوں گے کہ گویا ابھی غسل کرکے آ رہے ہیں (یعنی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا)۔‘‘[5]

مقام نزولترميم

ابوہریرہ سے ایک روایت صحیح مسلم میں مروی ہے کہ: نزولِ مسیح (عیسی ابن مریم) شام میں اُس وقت ہوگا جب اہل اسلام دشمن سے ایک بڑے معرکے کے دوران میں نماز پڑھنے لگے ہوں گے (یعنی مسلمان اُس وقت نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے)۔‘‘[6]

دوسری روایت قدرے تفصیل سے نقل ہوئی ہے کہ جسے کم از کم بیس سے زائد صحابہ کرام نے روایت کیا ہے۔ نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قربِ قیامت کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:

قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا، اُس کو ہلاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ عیسی ابن مریم کو نازل فرمائیں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے۔ اُن کے بدن پر دو چادریں ہوں گی (پہلی روایت کے مطابق سرخی مائل چادریں ہوں گی)۔‘‘[7]

نزولِ عیسیٰ ابن مریم سے متعلق متعدد روایاتترميم

احادیث مبارکہ میں نزولِ عیسیٰ ابن مریم سے متعلق متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جن کا مجموعہ یہ ہے:

  • وہ رات سخت تاریک ہوگی۔
  • اور لوگ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے (مذکورہ روایت اوپر گزر چکی ہے)۔
  • صبح کی تاریکی میں اچانک کسی کی آواز سنائی دے گی (کہ تمہارا فریاد رَس آ پہنچا)، لوگ تعجب سے کہیں گے کہ: ’’یہ تو کسی شکم سیر کی آواز ہے۔‘‘
  • (نمازِ فجر کے وقت) عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہوگا (ایک دوسری روایت میں وقتِ عصر میں بیان ہوا ہے لیکن متفقہ روایات کے مطابق وقتِ فجر ہوگا)۔۔
  • نزول کے وقت وہ (عیسیٰ ابن مریم) اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. The Qur'an,5:116
  2. The Qur'an,5:116 زمرہ جات
  3. صحیح بخاری: کتاب الانبیاء، باب 49، جلد 2، صفحہ 370، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  4. صحیح مسلم: جلد 1، صفحہ 135، رقم الحدیث 242، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  5. صحیح مسلم: جلد 8، صفحہ 176، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  6. صحیح مسلم: جلد 8، صفحہ 198، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  7. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 14، حصہ 2، صفحہ 368، مطبوعہ لاہور، 1987ء