مرکزی مینیو کھولیں
آکرہ

آکرہ (انگریزی:Akra)بنوں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں بھرت میں 250 فٹ اونچی پہاڑی پر آکرہ کے کھنڈر موجود ہیں جو 133ایکٹر زمین پر محیط ہیں۔ بنوں کے لوگوں میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ آکرہ کے کھنڈر عذاب الہٰی کی یادگار ہیں۔ ان کے خیال میں یہ شہر کسی زمانے میں خوب آباد تھا۔ مگر یہاں کے باسیوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے قہر نازل ہوا اور ساری کی ساری آبادی آن کی آن میں نیست و نابود ہو گئی۔ اور اب یہ لفظ آکرہ بدعا کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ایک بدترین بدعا سمجھی جاتی ہے۔
ایک دوسرے مفروضے کے تحت آتش فشاں کے لاوے نے اس شہر کو گھیر لیا اور اس کو نیست و نابود کر دیا۔ مگر اس کی بھی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور نہ ہی آثار قدیمہ کے کسی ماہر نے اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے۔
مقامی ہندووں کے عقیدے کے مطابق شہر آکرہ کا بانی بھرت تھا جو رام چندر کا بھائی تھا مگر یہ بات بھی غلط ثابت ہوتی ہے۔ کیوں رام اور بھرت یوپی یعنی اتر پردیش کے رہنے والے تھے اور وہاں پر بھرت نے حکومت کی۔ جسے بعد میں رام کو واپس لوٹا دیا گیا۔
شہر آکرہ کے بارے میں اتنی زیادہ تاریخی معلومات تو موجود نہیں بس اس کے ماخذ کچھ کتبے، بت، مہریں، سکے اور دوسرے نوادرات ہیں۔ جو وقتا فوقتا یہاں سے دریافت ہوئے اور ملک کے کئی عجائب گھروں میں آج بھی موجود ہیں۔ ان نوادرات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ آکرہ ایک یونانی شہر تھا۔ اور ان نوادرات میں یونانی اور ہندو مت دونوں تہذیبوں کی آمزش پائی جاتی ہے۔ ان سکوں اور نودرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو سکندر اعظم خود یہاں سے گزرا یا پھر اُس کے کسی گورنر نے بعد میں اس شہر کو فتح کیا۔ کیونکہ آکرہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اونچی جگہ کے ہیں اور جہاں آکرہ واقع ہے یہ ایک بلند پہاڑی ہے باقی علاقہ بالکل ہموار ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس جگہ کو آکرہ کا نام دیا گیا۔
یہاں پر بے شمار پکی اینٹیں پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔ ان اینٹوں کی قدامت آج سے تقریبا 3000سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندو تہذیب یعنی راجاؤں کے نام کے سکے اور دوسرے نشانات بھی ملے ہیں، یوں ثابت ہوتا ہے کہ آکرہ شہر ملی جلی تہذیبوں کا مجموعہ رہا۔ بیرونی حملوں کی وجہ سے یہ شہر تباہ و بربادہوا۔ یوں اس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔
ویسے یہ کھنڈر آہستہ آہستہ لوگوں کے ہاتھوں ختم ہو رہے ہیں۔ اگر جلد ہی اس کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم ہماری تہذیب کے ایک خزانے سے محروم ہو جائیں گے۔[1]

حوالہ جاتترميم